Amali Science Banner

آر سی ٹی

آر سی ٹی

اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت منہ میں دانتوں کا ہونا بھی ہے۔ اللہ نے اپنی یہ اہم نعمت ہمیں دوسری بہت سی نعمتوں کی طرح مفت میں عطا کی ہوئی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت منہ میں دانتوں کا ہونا بھی ہے۔ اللہ نے اپنی یہ اہم نعمت ہمیں دوسری بہت سی نعمتوں کی طرح مفت میں عطا کی ہوئی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ اگرچہ آج کل مصنوعی دانت بنوانا اور لگوانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، لیکن اس کے باوجود مصنوعی دانت قدرتی اور اصلی دانتوں کا نعم البدل ہرگز ثابت نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ہمیں اللہ کی تمام نعمتوں کی طرح اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہئے اور اس کی قدردانی کرتے ہوئے اس کا پورا خیال بھی رکھنا چاہئے اور اگر کبھی کوئی خرابی ہوجائے تو فوری طور پر اس کا علاج مستند ڈاکٹر سے کروانا چاہئے۔ آج ہم آپ کے دانتوں کے لئے آر سی ٹی طریقہ علاج کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں تاکہ ضرور پڑنے پر قارئین اس سے فائدہ اٹھاسکیں۔

کچھ عرصہ قبل ’’اخراجِ دندان‘‘ ہی حتمی ’’علاجِ دندان‘‘ تصور کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر ہوں یا حکیم، عوام ہوں یا خواص، سب ہی اس بات پر متفق تھے۔ جدید طبی سائنس کی ترقی نے عوام الناس کی بیش بہا خدمت کی ہے اور ان کی صحت کے بہت سے مسائل حل کردیئے ہیں۔

طب کے شعبہ امراض دہن و دانت نے بھی وقت کے ساتھ بڑی ترقی کی ہے اور درد زدہ دانتوں کو نکال پھینکنے کے بجائے ان دانتوں کا درد ختم کر کے ان کو مریض کے منہ ہی میں محفوظ رکھنے اور قابل عمل بنانے کا طریقہ علاج دریافت کرلیا ہے اور یوں مریضوں کو غیر ضروری جسمانی اور ذہنی تکلیف سے نجات دی ہے جو ان کو دانت نکلوانے کی صورت میں ہوتی تھی۔

دانتوں کو محفوظ رکھنے کے اس طریقہ علاج کو روٹ کینال ٹریٹمنٹ کہتے ہیں جس کو مختصر آرسی ٹی یا روٹ ٹریٹمنٹ بھی کہا جاتا ہے۔

آر سی ٹی کیا ہے؟

میٹھی اشیاء کا بار بار استعمال منہ میں تیزابیت پیدا کردیتا ہے۔ منہ میں موجود جراثیم اس تیزابی ماحول میں کارروائی کر کے دانتوں کی اوپری تہہ کو جسے انیمل کہتے ہیں، نرم اور بوسیدہ کردیتے ہیں اور یوں جسم میں پائی جانے والی بافتوں میں سب سے سخت بافت گل سڑجاتی ہے۔ اس عمل کو ’’دانتوں کو کیڑا‘‘ لگنا کہتے ہیں۔ یہ کیڑا دانتوں کی نسبتاً کم سخت تہوں کو بھی گلا کر دانتوں کی نس پلپ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی تکلیف دہ مرحلہ ہے جس کا علاج یہ ہے کہ متاثرہ نس کو نکال پھینکا جائے۔ جراحت کے اسی عمل کو آر سی ٹی کہا جاتا ہے۔

بعض اوقات منہ پر چوٹ لگ جاتی ہے اور سامنے کے مضرویہ دانت کالے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ درد نہ ہونے کی وجہ سے مریض اکثر بروقت کسی مستند دانتوں کے معالج سے رابطہ نہیں کرتے۔ یہ بے توجہی بڑی خرابی کا باعث بن جاتی ہے۔ اگر بروقت توجہ ہوجائے تو آر سی ٹی کے بعد ایسے دانت پر خول (کرائون) چڑھا دیا جاتا ہے جس سے نہ صرف بیماری ختم ہوجاتی ہے بلکہ بدنمائی کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے۔
اکثر مریض منہ میں پائے جانے والے پیچھے کے دانتوں کے بارے میں بڑے لاپرواہ ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دانت صرف ان کی خوبصورتی میں اضافہ کا ذریعہ ہیں۔ پیچھے کے دانت نہ ہوں تو کیا فرق پرتا ہے۔ یہ بات کسی ایسے شخص سے پوچھی جائے جس کے عملاً یہ دانت موجود نہ ہوں، وہی ان دانتوں کی اہمیت پر صحیح روشنی ڈال سکے گا۔ پچھلے دانت بھی اکثر کیڑے زدہ ہوجاتے ہیں۔ نکلوانے کے مقابلہ میں ان کو بھی آر سی ٹی کرالینا چاہئے تاکہ دانت محفوظ بھی ہوجائے اور چبانے کے عمل میں کسی قسم کی کوتاہی بھی نہ ہو۔

آر سی ٹی کے فوائد

سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ مریض دانت نکلوانے کی زحمت سے بچ جاتا ہے۔ صحیح علاج کے باعث روٹ ٹریٹڈ دانت زندگی بھر کا ساتھی بن جاتا ہے۔ جو نہ صرف مریض کو مصنوعی دانتوں کی پریشانی سے بچالیتا ہے اور دانت ہی کے رنگ کا خول چڑھ جانے کے بعد تو کسی بھی بدنمائی کا امکان بھی نہیں رہتا۔
علاوہ ازیں عام بول چال میں ایسا معاون ہوتا ہے جیسے قدرتی دانت، جبکہ اگر دانت نکال دیا جائے یا مصنوعی دانت لگا ہو تو مریض کو صحیح تلفظ کی ادائیگی میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دانتوں کا ایک کام غذا کو چبانا بھی ہے۔ مصنوعی دانتوں کے ساتھ چبانے کے اس عمل میں کافی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ خصوصاً ابتدائی ایام میں، لیکن آر سی ٹی کیا ہوا دانت چبانے کا کام اسی طرح انجام دیتا ہے جس طرح ایک قدرتی دانت۔ البتہ بعض دانت ضرور ایسے ہوتے ہیں جو اس علاج کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس کا فیصلہ آپ کا معالج آپ کے منہ کا معائنہ اور ایکسرے دیکھ کر کرسکتا ہے۔

onicmedia
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos