Amali Science Banner

الیکزینڈر گراہم بیل

    ٹیلیفون کی ہر گھنٹی الیکزینڈر گراہم بیل کی یاد ہمیشہ تازہ کرتی رہے گی ۔ اگر یہ عظیم سائنسداں دنیا والوں کو ٹیلیفون جیسی عظیم نعمت سے نہ نوازتا تو ہم لوگ گھر بیٹھے اپنے ان احباب و اقارب سے گفتگو کس طرح کرلیتے جو یورپ ، امریکہ اور دنیا کے د وسرے حصوں میں قیام پذیر ہیں ٹیلی فون نے تمام مہذب دنیا میں جو انقلاب برپا کردیا ہے وہ اس عظیم سائنسی شخصیت ” الیکزینڈر گراہم بیل ” کی مرہون منت ہے ۔

    تاریخ پیدائش 3مارچ 1847ء تاریخ وفات2اگست 1922ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹیلیفون کی ہر گھنٹی الیکزینڈر گراہم بیل کی یاد ہمیشہ تازہ کرتی رہے گی ۔ اگر یہ عظیم سائنسداں دنیا والوں کو ٹیلیفون جیسی عظیم نعمت سے نہ نوازتا تو ہم لوگ گھر بیٹھے اپنے ان احباب و اقارب سے گفتگو کس طرح کرلیتے جو یورپ ، امریکہ اور دنیا کے د وسرے حصوں میں قیام پذیر ہیں ٹیلی فون نے تمام مہذب دنیا میں جو انقلاب برپا کردیا ہے وہ اس عظیم سائنسی شخصیت ” الیکزینڈر گراہم بیل ” کی مرہون منت ہے ۔
    الیکزینڈر گراہم بیل کی شخصیت اور اس کی عظیم ایجاد ٹیلیفون کو بیان کرنے سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے ان مواصلاتی ذرائع پر کچھ روشنی ڈالی جائے جو بتدریج ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے بالا خر ٹیلیفون کی ایجاد پر منتج ہوئے ۔ آئیے دیکھیں کہ اس سے پہلے انسان ٹیلیفون کی ضرورت کو کن کن طریقو ں سے پورا کرتا تھا ۔
    ابتدائی طریقہ
    ابتدائی لوگ ، دنیا کے تقریباً ہر حصہ میں ٹیلیفون کی ضرورت کو آگ اور دھوئیں کے ذریعے پورا کیا کرتے تھے بلندیوں پر آگ جلا کر یا دھواں چھوڑ کر پیغام رسانی کی جاتی تھی ۔ 1084قبل مسیح میں یونان کی ملکہ کو شہر ” ٹرائے” کی فتح کی خبر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پہاڑ کی چوٹیوں پر آگ جلا کر دی گئی تھی 1588 میں انگلینڈ میں جب برطانیہ عظیم ہسپانوی بحری بیڑے سے برسر پیکار تھاتو کھمبوں پر آگ کی بالٹیاںا لٹکا کر پیغام رسانی کا انتظام کیا گیا تھا۔ اسی طرح کی روشنیوں کا انتظام اس وقت بھی کیا گیا تھاجب انیسویں صدی میں نپولین نے برطانیہ پر حملے کی دھمکیاں دی تھیں ۔
    امریکی انڈین جن کو ریڈانڈین بھی کہا جاتا ہے ۔ دھوئیں اور آگ کے ذریعے پیغام رسانی کیا کرتے تھے ۔
    لیفٹینٹ جان چارلس فری منٹ جب شمالی کیلیفورنیا میں داخل ہوا تو اس نے مضافات میں جگہ جگہ وقفے وقفے سے دھوئیں کے غبار اٹھتے دیکھئے ریڈ انڈین دشمن کی آمد کی اطلاع فراہم کرنے کے لئے یہ طریقہ استعمال کیا کرتے تھے بہر حال اس طریقے کااستعمال محدود تھا ۔ دھوئیںکے دو متوازی بادلوں کا مطلب ہوتا تھا کہ فوجی دستہ فتحیاب ہوکر واپس لوٹ رہا ہے ۔اس کو کسی اور خوش قسمتی کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔
    یورپ میں باہم پیغام رسانی کیلئے آئینوں اور چمکدار ڈھالوں کو پیغام رسانی کے لئے استعمال کیا گیا مگر یہ طریقہ بھی زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوا امریکن انڈین بھی باہم پیغام رسانی کے لئے تیز دھوپ میں یہ طریقہ استعمال کیا کرتے تھے لیکن اس طریقہ کو کوڈ پیغامات کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا تھا ۔ تاہم آئینوں کے اشارے قبیلے کے خاص خاص لوگ ہی جانتے تھے
    قدیم یونانی آگ کے ذریعے باہم گفتگو کرنے کے لئے ایک آلہ استعمال کرتے تھے جس کو Clepsydra کہا جاتا تھا ۔ پانی بھرے برتنوں میں تختے یا لکڑیاں ترونوں (Floats) پر لگا دی جاتی تھیں ان کے اوپری حصےّ میں نشانات لگے ہوتے تھے جب ایک آپریٹر مشعل ہلاتا تھا تو دوسرا اس کا جواب دیتا تھا وغیرہ ۔
    آواز کے ذریعے مواصلات کرنا
    اس مقصد کے لئے ہر وہ چیز جو آواز پیدا کرسکتی تھی استعمال کی جاتی تھی ایک رومن مورخ کے مطابق ایران میں دارلسلطنت کی مختلف سمتوں میں شاہنشاہ کے حکم سے مخصوص فاصلوں پر مستول نصب کئے گئے جن پر بلند آواز والے اشخاص متعین ہوتے تھے ۔ آگے بھیجے جانے والے پیغام کو ایک شخص زور دار آواز میں بولتا تو دوسرے کھمبے والا اس کو سن کر فوراً دہراتا اور یہ سلسلہ کھمبابہ کھمبا آگے بڑھتا ہوا منزل مقصود تک پہنچ جاتا اس طرح منھ سے بولا ہوا پیغام دور تک پہنچ جاتا تھا ۔
    بنی نوع انسان نے بالکل ابتدائی مراحل میں مختلف اشاراتی اور علاماتی طور طریقوں سے تو اپنا مفہوم سمجھنے اور سمجھانے کی کوششیں کی ہی تھیں خود دورِ جدید میں بھی ان باتوں کو بڑے دلچسپ اندا ز میں پیش کیا گیا ہے مثلا امریکہ کے مشہور کسان رہنما وائیوا زیپاٹا ” VIVA ZAPATA” کے متعلق ایک امریکی فلم جس میں مقبول ادا کارہ مارلن برانڈو نے ہیرو کا کردار ادا کیا ہے دکھایا گیا ہے کہ جب ریاستی فوجیں ، کسان بغاوت کو کچلنے کے لئے روانہ ہوتی ہیں تو راستے میں کھیتوں کے اندر کام کرنے والے کسانو ں نے ایک مخصوص انداز میں دو پتھروں کو ٹکڑانا شروع کردیا اور اس کو دیکھ کر سن سن کر برابر کے کھیتوں کے کسانوں نے بھی یہی فرض انجام دیا اور اسی طرح دیکھتے ہی دیکھتے حملہ آور فوجوں سے پہلے یہ خبر کسان رہنما کو پہنچا دی گئی کہ دشمن آرہا ہے ۔
    نلکیوں کے ذریعے بولنے کا طریقہ
    دور تک آواز پہنچانے کا یہ طریقہ بھی بہت قدیم ہے ۔کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے آواز کے ذریعے پیغامات کودور تک پہنچانے کے لئے دیو قامت میگا فون تیار کروائے تھے ۔
    اس سلسلے میں مزید تفصیلات حاصل نہیں ہوسکیں ۔ بہر حال ٹیلیفون کا یہ طریقہ بھی اپنی مثال آپ تھا ۔ جب رومیوں نے انگلینڈ پر قبضہ کیا تو انہو ںنے مقبوضہ علاقے کے گرد جو دیوار بنائی تھی اس پر پیتل کی بولنے والی ٹیوبیں نصب کی تھیں تاکہ شمالی حملہ آوروں کے خلاف اطلاعات فراہم کی جاسکیں ۔ اطلاعات پہنچانے کے لئے سینگ بھی استعمال کئے جاتے تھے 1670ء میں برطانیہ میں ” سرسموئیل مورلینڈ ” نے نلکی پر مشتمل میگا فون ایجاد کیا تھا جس کے ذریعے وہ شاید چارلس دوئم سے ڈیڑھ میل کے فاصلے سے گفتگو کرسکتا تھا۔ کینری گروپ کے جزیرہ ” گومیرا” میں مواصلات کے لئے ” سیٹیوں” کا طریقہ استعمال کیا جاتا تھا ۔ سیٹیوںکی آواز کو روزہ مرہ کی گفتگو کے الفاظ کے مطابق تشکیل دیا جاتا تھا ۔ تربیت کے بعد بچے باآسانی اپنی قومی زبانوں میں مواصلات کا یہ طریقہ سیکھ جاتے ہیں۔
    ڈھول کے ذریعے پیغام رسانی کا طریقہ
    ڈھول کے ذریعے پیغام رسانی کسی وقت میں اہم فوجی اشاروں کے لئے استعمال کی جاتی تھی ۔ معزز ہستیوں کے استقبال کے لئے 21توپوں کی گھن گرج کے ذریعے سلامی کا موجودہ طریقہ قدیم ڈھو ل کی آواز کی ہی ایک نقل ہے ۔ وسطیٰ افریقہ میں ” ڈھول کے ذریعے گفتگو”کا طریقہ اب بھی رائج ہے ۔ ڈھول کی آواز کے ذریعے اشاروں کو غیر مقامی لوگوں کے لئے سمجھنا خاصا دشوار ہوتا ہے ۔
    پیغام بھیجنے والے عموماً دو سرُ نکالنے والے ڈھول استعمال کرتے ہیں۔ ایک کا سر بھاری اور دوسرے کا پتلا ہوتا ہے ۔ چنانچہ مخصوص الفاظ کے لئے ہائی یالوٹون پر مشتمل آوازیں نکال کر پیغام رسانی کی جاتی ہے ۔ وسطی افریقہ کا یہ ٹیلیفون جنگلوں وغیرہ میں پیغام رسانی کے لئے وسطیٰ افریقہ کے لوگو ںکا ایک موثر مواصلاتی طریقہ ہے ۔
    ٹیلیگرافی کے ذریعے مواصلات کا طریقہ
    اس طریقے میں جھنڈیوں اور سیما فور (Semaphore) کے ذریعے پیغام رسانی کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ حروف تہجی کی ایجاد نے اشاروں کو دیکھ کر پیغام رسانی کے لئے راہ ہموار کردی ۔ قدیم یونان میں مخصوص جنگلوں کے پیچھے سے ٹارچ کے ذریعے پیغام رسانی کے لئے حروف کے لئے مخصوص اشارے تشکیل دیئے جاتے تھے ۔ دور بین ایجاد ہوجانے کے بعد 1684ء میں ڈاکٹر رابرٹ ہک نے ” سٹر سیما فور ،، پرچمی اشاروں کا ایک طریقہ اختیار کیا جس کو دور سے دور بین کے ذریعے باآسانی پڑھا جاسکتا تھا اس طریقے میں پیغامات کی صحت کی ضمانت موجود تھی لیکن اس کا عملی نفاذ نہ ہوسکا اور یہ محض کاغذ ہی پر رہ کر ختم ہوگیااس کے تقریباً سو برس بعد بحری تجارتی جہازو ںنے شناخت کے لئے خانگی جھنڈیوں ” House Flags” کا طریقہ استعمال کرنا شروع کیا الفاظ کے ہجے کے لئے ” پرچمی کوڈ ” کی آزمائش کی گئی ۔لیکن اس کو اس وقت تک سرکاری مقبولیت حاصل نہ ہوسکی جب تک 1816 ء میں ” سرہوم پوفن ” نے سیما فورٹیلیگراف میں اضافہ کے طور پر اس کو شاہی بحریہ میں نافذ نہیں کردیا ۔
    سیما فورٹیلیگرافی کے ساتھ ، دیکھ کر اشاروں کے ذریعے مواصلات کا نظام (Visual Signalling) اپنے آغاز پر پہنچ گیا ۔سب سے زیادہ قابل عمل سیما فور کے اشاروں کا طریقہ فرانس میں کلاڈ چیپے اور اس کے بھائیو ںنے پیش کیا ۔ یہ طریقہ کارجڑے ہوئے بازووں پر مشتمل ہوتا تھاجن کو 192پوزیشنوں میں سے کسی پر بھی لایا جاسکتا تھا۔ پہلی لائن پر ہیرس اور للی کے درمیان جن کا فاصلہ 150 میل تھا پیغامات کو صرف 2منٹ میں بھیجا جاسکا ۔ نیپولین کے دور میں فرانس میں اس قسم کی ٹیلیگرافی کا جال 1112 میل تک کے علاقے میں پھیلا ہوا تھا جس کو 224 اسٹیشن چلاتے تھے ۔ انیسویں صدی کے نصف تک یہ نظام پورے یورپ میں پھیل گیا ۔
    1816ء کے لگ بھگ انگلستان سے ہجرت کرکے امریکہ آنے والے ایک ماہر جیمس ایم ایلفورڈ نے امریکہ کے لئے ایک بحری مواصلاتی نظام ایجاد کیا۔ اس سسٹم میں نیلے اور سفید رنگ کے سات جھنڈوں کا ایک سیٹ استعمال کیا جاتا تھا جن کے ذریعے کوڈ کئے گئے مجموعوںکو استعمال کیا جاسکتا تھا بعد میں اس کے ڈیزائن کردہ یہ جھنڈے تقریباً تمام امریکی بحری جہازوں میں رائج کردیئے گئے۔
    الیکٹرک ٹیلی گراف
    ” چیپے ” کے سیما فور سگنلنگ کے طریقوں کی ایجاد سے پہلے ہی برقی ٹیلیگرافی پر تجربات شروع کردئیے گئے تھے 1752 ء میں ایک ایسا طریقہ رائج کیا گیا جس میں برقی سگنلوں کو استعمال کیا جاتا تھا جوزف بوزولس نے 1767 میں ایک اور طریقہ تجویز کیا ۔بالاخر” جارجیزلی سیگ” نامی سائنسداں نے برقی ٹیلیگرافی کا ایک اسٹیشن جینوا میں قائم کیا 1816ء میں فرانسس رونالڈ نے ایک الیکٹر ک ٹیلی گراف سسٹم کا مظاہرہ کیا ۔ اس میں اس کی لان میں 8 میل لمبے تار لگائے گئے تھے اس کے طریقے میں دو نلیوں Discs کو ایک دھرُےAx1o کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا جو دو گھڑی نما چہروں کے دوسرے ہاتھ کو گھماتا تھا ۔ ان چہروں پر حروف تہجی کے نشانات لگائے گئے تھے ۔جب مطلوبہ حروف مارکر (نشان کنندہ ) کے قریب سے گزرتا تھا تو” سینڈر ” تار کو چارج کردیتا تھا جس کی بنیادپررسیونگ کلاک کے چہرے کے قریب ایک چھوٹی سی گیند حرکت میں آجاتی تھی ۔ رسیور اس حرف کو نوٹ کرلیتا تھا اور پھر دوسرے کا انتظار کرتا تھا ۔
    بالآخر بجلی کے ایک ایسے ذریعے پر تحقیقات کا آغاز ہوگیا جو مستحکم کرنٹ فراہم کرے جو آج کے برقی ٹیلیگراف کی ایک ضرورت ہے ۔ گلوانی نے بجلی کی ایک نئی قسم دریافت کی سائنسداں وولٹانے اس کو کیمیائی عمل کی پیداوار قررا دیا اور دنیا کی پہلی بیٹری تیار کی۔ بعد میں دو سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ مقناطیسی فیلڈ جو ایک چارج شدہ تار کے گرد ہوتی ہے اگر اس کے گرد کمپاس کو لایا جائے تو اس کی سوئی جنبش کرے گی ماہر برقیات ایمپئر نے اس تصور کو سمجھ لیا اور الیکٹرو ڈائنامک کے عمل کے ریاضی کو شائع کیا ۔
    1832ء میں ” سیموئیل ایف بی مورس” نامی سائنسداں نے ٹیلی گراف سگنلوں کے لئے برقی مقناطیس کے استعمال پر تجربات کئے اس سے پہلے ہنری یہ ثابت کرچکا تھا کہ لمبے تار پر سفر کرنے والی برقی رو تار کی مزاحمت کے زیر اثر کمزور ہوجانے کے باوجود اتنی طاقتور رہتی ہے کہ دوسرے کنارے پر مقابلتاً طاقت ور مقناطیسی کشش فراہم کرسکے ۔ مورس نے ٹیپ پر ڈاٹ اور ڈیش کا طریقہ ایجاد کیا۔ اس کے اس طریقے کو چنداصلاحات کے بعد اب بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ٹیلی گرافی کو بہت جلد تجارتی اور نجی پیغامات کے لئے جلدہی اختیار کرلیا گیا اور ریلوے کے لئے بھی اختیار کرلیا گیا ۔آج کل برقی ٹیلی گرافی کے لئے ٹیلی ٹائپ رائیٹرز کا استعمال رائج ہوچکا ہے ۔
    اور اب میلوں دور سے بات کرنے کے لئے ٹیلی فون جیسی مایہ ناز ایجاد آپ کے سامنے ہے جس کا سہرا الیکزینڈر گراہم بیل کے سر ہے جو اس وقت ہمارا خاص موضوع ہے جو اس منزل کا عروج ہے جو دھوئیں ، آگ، ڈھول وغیرہ سے شروع ہوئی جس کا مختصر تذکرہ پیش کیا گیا ۔
    الیکزینڈر گراہم بیل نے صرف اس ایک عظیم دریافت کی بدولت جدید تاریخ ترقی میں اپنا مقام حاصل کرلیا اور صبر و تحمل سے کام کی انجام دہی اور خون پسینہ ایک کرنے والی ایجادکی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔
    دنیائے ٹیلیفون کا یہ آفتاب3 مارچ 1847ء کو ایڈنبرا برطانیہ میں طلوع ہوا ۔ گیارہ برس کی عمر تک اس کے نام کے ساتھ لفظ گراہم شامل نہ تھا اس نے 14 برس کی عمر میں ایڈنبرا کے رائل ہائی اسکول سے گریجویشن کیا۔ بعدمیں اس کی تعلیم و تربیت کا بڑا حصہ اس کے خاندان میں بھی انجام پذیر ہوا ۔ ورز برگ جرمنی سے اس نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔
    اس نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز مسٹر اسکنر (Skinner) کے اسکول سے کیا جہاں وہ بچوں کو موسیقی اور فن کتابت سیکھایا کرتا تھا۔1864ء میں وہ ایلگن کی ویسٹن ہاؤس اکیڈمی میں ایک ریزیڈنٹ ماسٹر کی حیثیت سے شامل ہوگیا جہاں پر اس نے ساؤنڈ یعنی آواز پرپہلے مطالعات کئے اس طرح وہ ایک ٹیچر سائنسداں بن گیا جو آخر تک رہا ۔
    1868ء میں وہ اپنے والد کا نائب مقرر ہو گیا جس کا بڑا بھائی امریکہ میں لیکچرز دینے کے فرائض انجام دے رہا تھا لیکن جلد ہی اس کے د ونوں بھائیوں کا انتقال ہوگیا ۔ نوجوان ” گراہم بیل ” پر ان حادثات کا بہت اثر ہوا اب وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جو باقی رہ گیا تھا۔ انہوںنے اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ اگست 1870ء میں کینیڈا ہجرت کی جہاں گراہم بیل کی صحت تیزی سے بحال ہونے لگی ۔1871ء میں گراہم بیل نے چند ہفتہ بوسٹن میں گزارے وہ لیکچرز دیتا تھا اور اپنے والد کی کتاب Visible Speechکے مواد کا مظاہرہ کرتا تھا۔ یہ کتاب 1866ء میں شائع ہوئی تھی اس میں بہروں کو بولنے کے طریقے سیکھانے پر بحث کی گئی تھی اس میں ہر علامت کے لئے ہونٹ اور زبان وغیرہ کی شکلو ںکی حالتوں کا اظہار کیا گیاتھا۔
    آواز پر اس نے اپنے تجربات کو جاری رکھااور 1872ء میں اس نے بوسٹن میں خود اپنا ہی اسکول کھولا جہاں بہروں کے لئے اساتذہ کی تربیت کا انتظام تھا اسی سال اس نے ” Visible Speech Pioneer” کے نام سے ایک پمفلٹ شائع کیا بالا خر 1872ء میں اس کو بوسٹن یونیورسٹی میں ” Vocal Physiology” کا پروفیسر مقرر کردیا گیا ۔
    اختراع و ایجاد اس کی فطرت تھی
    اختراع و ایجاد بچپن ہی سے اس کی فطرت میں داخل تھی ۔ کینیڈا اور امریکہ جانے سے پہلے جب وہ ایڈنبرا (برطانیہ ) ہی میں تھا تو اس کو اپنے اسکول کے چند ساتھیوں کے سا تھ کارخانے میں جانے کا اتفاق ہوا ان کو گندم کے کچھ خوشے دے کر کہا گیا کہ وہ ان کے چھلکے تاراتار کر لائیں وہ گندم کو گھرے گیا اور ایک نیل برش سے نہایت تیزی اور صفائی سے مطلوبہ چھلکے اتار کر کارخانہ میں لے آیا اس نے فوراً ہی کارخانے کے مالک کو چھلکے اتار نے کے لئے برش کے اصول سے آگاہ کیا جس نے اس اصول پر کام کرنے والی ایک مشین تیار کروا کر اپنے کارخانے میں نصب کروالی۔
    بہری خوبصور ت لڑکی نے ٹیلی فون کی ایجاد کا راستہ ہموار کیا
    ” ہیبل ہوبارڈ ” ایک خوبصورت سی معصوم مگر بہری لڑکی تھی وہ الیکزینڈر گراہم بیل کے شاگردوں میں شامل تھی جب وہ بہروں کے لئے سننے کی مشین پر کام کررہا تھا یہ بہری لڑکی اس کے دل کے گوشوں میں اتر گئی اور جلد ہی اس کی شریک حیات بن گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ چار برس کی تھی تو اس پر سرخ بخار کا حملہ ہوا جس کی بناء پر وہ بہری ہوگئی ۔ صحت یاب ہوجانے کے بعد ڈر تھا کہ وہ چار سال کی عمر میں سننے گئے الفاظ مزید نہ سننے کی بناء پر مکمل نہ بھول جائے اور گونگی نہ بن جائے آخر یہ طے ہوا کہ اس کو بولنے والے کے ہونٹوں کی حرکت کو بغور دیکھ کر الفاظ سمجھنے کی مشق کرائی جائے چنانچہ اس ترکیب پر عمل کرنے سے وہ گونگی نہیں بنی ۔
    قدرت کا نظام دیکھئے لوگوں کو سماعت اور گفتگو کی سہولتیں کی حیرتناک آسانیاں اور بنی نوع انسان کو ہزاروں میل دور سے ٹیلیفون کے ذریعے گفتگو کرلینے کی مایہ ناز سہولت فراہم کرنے والی عظیم شخصیت کی خوداپنی شریک حیات بہری تھی -اس لڑکی نے اس کے گونگوں بہروں کیلئے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کے جذبے کو استقامت بخشی جو بالا خر ٹیلیفون جیسی مایناز ایجاد پر منتج ہوئی۔ اس لڑکی نے ہونٹوں کے ذریعے پڑھنے(Lip reading) کے طریقے کو بہروں کے لئے زیادہ مفید قرار دیا ۔ یہ واقعہ پاکستان کے معاشرتی بہبود اور دفاع عامہ کے قومی ہیرو جناب عبدالستار ایدھی کی عظیم شریک حیات محترمہ بلقیس ایدھی صاحبہ سے ملتا جلتا ہے جو ایدھی صاحب کی رفاعی ڈسپنسری میں انسانی خدمت کے عظیم جذبے سے سر شار بطور ایک نرس کے کام کیا کرتی تھیں۔ قدرت نے ان کو بھی ایدھی صاحب کی شریک حیات بنا کر ان کے مشن کو عظیم سے عظیم تر ین بنانے کے لئے منتخب کیا تھا ۔ آج یہ دونوں ملک و ملت کی عظمت کا نشان ہیں ۔حادثہ ہو یا معاشرے کا ٹھکرایا ہوا کوئی بے یارو مدد گار شخص لب سڑک دم توڑ رہا ہو ۔ ایدھی صاحب کی ایمبولینس دندناتی ہوئی اس کی مدد کو آن پہنچتی ہیں اور اب ہیلی کاپٹرز مضافات اور دوسرے مقامات پر استعمال ہورہے ہیں ۔
    گراہم بیل کی شریک حیات کی طرح محترمہ بلقیس ایدھی صاحبہ بھی اپنے عظیم شوہر کا دایاں بازو بن کر ان کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں گراہم بیل جب ” ہارمونک ٹیلی گراف ” کی تشکیل کے سلسلے میں ایک ہی تار پر متعدد ٹیلی گرافی پیغامات بھیجنے کے لئے تجربات کررہا تھا تو ان تجربے کے دوران اس نے اپنی توجہ کو بجلی کے ذریعے گفتگوکو منتقل کرنے کی جانب بھی مرکوز رکھا ۔ ایک اسپرنگ کی اتفاقیہ جھنکار نے جو ایک تار پر نشر ہو گئی تھی اسے ہارمونک ٹیلی گراف کی جانب متوجہ کرلیا ۔
    پچھلے تجربات کے برعکس گراہم بیل نے ٹیلیفون کے صحیح تصور کو حاصل کرلیا تھا اس نے کہا ” اگر میں کرنٹ یعنی برقی رو کو آوازکے مطابق اسی طرح متغیر کرسکوں جس طرح ہوا اپنی کثافت کے لحاظ سے متغیر ہوتی ہے تو پھر میں ٹیلیگراف سسٹم سے آواز کو نشر کرسکتا ہوں ہارمونک ٹیلی گراف پر ابتدائی تجربات کے دوران گراہم بیل نے برقی رو کو موجوں کی شکل میں متغیر ہونے کے عمل کو سمجھ لیا تھا اب اس نے ایک مردہ آدمی کے کان کے پردے کا مطالعہ شروع کردیا ور بولنے کے دوران ہوا کے تغیرات کا بھی مطالعہ کیا اس نے کہا کہ جب کان کی چھوٹی سی جھلی ، کان میں موجود مقابلتاً بھاری ہڈیوں کے سلسلے کو حرکت میں لاسکتی ہے تو بڑی جھلی یقیناً ایک آہنی آرمیچر کو متحرک کرسکے گی اب اگر اس آرمیچر کو ہواکی لہرو ںکے مطابق حرکت میں لایا جاسکے تو آواز کو ٹرانسمٹ کیا جاسکتا ہے بالا خر اس نے ایک آلہ تیار کرلیا جو جدید ٹیلی فون کا پیش رو تھا۔
    15 فروری 1876ء کو گراہم بیل نے امریکہ میں ٹیلی گرافی میں اصلاح نامی ایجاد کو پلٹیمنٹ کرنے کے لئے درخواست پیش کی اس کے دو گھنٹے بعد اسی قسم کی ایجاد کے لئے شکاگوکے ” ایشیاگرے ” نے بھی ایک درخواست پلیٹمنٹ کرنے کے سلسلے میں داخل کردی ۔یہ وہ دور تھا جب اے ای ڈولبیر ، ڈینل ڈرابوع اور عظیم ایڈیسن وغیرہ سب ہی لوگ اس سلسلے میں کام کررہے تھے ۔
    سب ہی لوگ ٹیلی فون کی ایجاد کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر دعویدار بنے ہوئے تھے اور اس طرح گویا ٹیلی فون کی جنگ عظیم شروع ہوچکی تھی۔
    گراہم بیل اور اس کا نائب واٹسن ، بوسٹن کے ایک سستے بورڈنگ ہاوّس کے دو کمروںمیں چھپ گئے دونوں کمروں کے درمیان آلات لگا کر رات دن تار کے ذریعے انسانی آواز کو نشر کرنے اور سننے کے تجربات میں مشغول ہوگئے ۔
    دنیا کے پہلے ٹیلی فون پر سنی جانے والی پہلی آواز
    دس مارچ 1876کی ایک یادگاردوپہرکے وقت جب واٹسن ٹیلی فون کے رسیور کو کان سے چپکائے ہوئے تہ خانے کے کمرے میں تجربات میں مشغول تھا تو اس کے کانوں نے نہایت واضح اور صاف آواز میں یہ الفاظ سنے
    ” مسٹر واٹسن ! پلیز آجائیے مجھے آپ کی ضرورت ہے ”
    یہ سنتے ہی واٹسن خوشی سے اچھل پڑا ۔ فرط مسرت سے دو دو سیڑھیاں چڑھتا ہوا گراہم بیل کے کمرے میں وارد ہوا اور چلا کر بولا ” میں نے تمہاری آواز سن لی ۔ جو کچھ تم نے کہا میں نے واضح طور پر سن لیا ”
    اسی سال یعنی 1876ء میں الیکزینڈر گراہم بیل نے فلا ڈیلفیا میں منعقد ہونے والی ” سینٹینل ایکسپوزیشن ” میں اپنے ٹیلیفون کامظاہرہ کیا ۔ کسی نے اس وقت تک اس کی اس ایجاد پر خاص توجہ نہیں دی جب تک کہ شاہنشاہ برازیل ” ڈون پیڈرو” نے رسیور کو ہاتھ میں اٹھا کر کانوں سے نہیں لگا لیا ۔ تار کی دوسری جانب گراہم بیل نے ہیملٹ کے ایک جملے کو دھرایا ۔
    ” TO BE OR NOT TO BE” شاہنشاہ برازیل چلا اٹھا اوخدایہ تو سچ مچ بولتا ہے ” اس واقع کے بعد ٹیلی فون کو ”فخر نمائش ” کہا جانے لگا ۔
    تاہم ابھی تک اس کو تجارتی طور پرفروغ دینے کی رفتار سست تھی بالاخر ایک کمپنی کی تشکیل عمل میں آئی جو واٹسن ، گراہم بیل اور اس کے خسر گارڈنر ہیوبرڈ پر مشتمل تھی ۔ چوتھا ڈائریکٹر تھامس سینڈرس تھا جو اس گروپ میں سرمایہ فراہم کرنے والی خاص شخصیت تھا ۔ سینڈرس ایک بہرے اور گونگے لڑکے کا باپ تھا گراہم بیل کو اس لڑکے سے اس قدر دلچسپی ہو گئی کہ اس نے سینڈرس کے مکان کے باڑہ میں اپنی پہلی لیبارٹری قائم کرلی ۔
    اسی دوران ٹیلی فون کی جنگ نے بھی شدت اختیار کرلی ۔ گراہم بیل نے مقدموں پر مقدمے لڑے اور ہرمقدمے میں فتح حاصل کی ۔ اس ” ہیٹینٹ” کو مان لیا گیا وار اس حقیقت کا اعتراف کرلیا گیا کہ گراہم بیل ہی ٹیلیفون کا موجد ہے ۔
    جلد ہی گراہم بیل نے ٹیلی فون کے سلسلے میں مزید اصلاحی کاموں میں فعال حصہ لینا چھوڑ دیا اس نے ایک عظیم منزل کی بنیاد رکھ دی اب اس کو مزید بہتر بناناا اور سنوارنا دوسروں کا کام تھا ۔ تاہم اس کی اس نئی ایجاد نے اس کو ایک امیر آدمی بنا دیا کچھ لوگ اب بھی اس پر نفرت اچھالنے سے گریز نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ نہ وہ ماہر برقیات تھا اور نہ ماہر طبیعات تھا۔ جس نے محض اتفاق سے ٹیلی فون ایجاد کرلیاتھا وہ اس کے بعد کے تجربات کی متعدد ناکامیوں کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے اندر ایجادات کی محرک صفات کی کمی تھی لیکن یہ معترفین صحیح راستے پر نہیں ہیں بیل نے جو کامیابیاں حاصل کیں وہ اس کی عظمت کی عکاسی کرتی ہیں یہ بیل ہی تھا جس نے ٹیلی فون ایجاد کیا۔ یہ بیل ہی تھا جس نے فوٹو فون ایجاد کیا ۔ یہ بیل ہی تھا جس نے گرافو فون ایجاد کیا ۔
    اس کا فوٹو فون نامی آلہ روشنی کی شعاع پر واضح گفتگو کو نشر کرتا ہے بیل نے سیلینیم کی خصوصیات کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا اس نے 1887ء میں گرافوفون نامی آلہ بھی ایجاد کیا جس کے عمل کا اصول ایڈیسن کے گرافو فون نامی آلہ سے ملتا جلتا تھا۔ اس کے ذرخیز دماغ نے مختلف دوسرے شعبوں میں بھی تحقیقی کام کئے اس نے مکینکی طور پر چلنے والے طیاروںپر بھی تجربات کئے ۔ اس نے ایک بہت بڑی پتنگ ایجاد کی جس میں ایک انسان بطور پائلٹ سوار ہوا ۔ بہر حال یہ پتنگ خود سے تو نہ اڑسکی لیکن اس کو متعدد بارایک کشتی کے ذریعے دو سے تین سو فٹ کی بلندی پر پہنچایا گیا ۔ لیکن اس تجربے کی ناکامی کے بعد بھی وہ ناامید نہ ہوا وہ بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کی خاطر ہر شعبے میں تجربات کے لئے تیار رہتا تھا ۔
    1906ء میں اس نے بھیڑوں کی افزائش نسل پر نئے تجربات کی مشق کی اور ایسی مادہ بھیڑیں تیار کہیں جو ہمیشہ دو بچے دیں 1910ء میں وہ پھر اپنے مخصوص شعبے ” گفتگو ” پر واپس آگیا۔ اب اس نے جانوروں کو گفتگو سکھانے پر تجربات کئے باقی جانوروں پر تو اس کے تجربات ناکام رہے مگر وہ ایک کتے کو انسانو ںکی طرح آوازیں نکالنے پر کامیا ب ہوگیا مگر اس کی اس کارکردگی کو زیادہ اہمیت نہ دی گئی ۔
    1912ء میں اس نے ‘ ورلڈ انگلش ” کا تصور پیش کیا اور بولنے کے لئے وہی طریقہ پیش کیا جو خاص انگریزوں کا ہے لیکن اس نے اس طریقے کو تحریری انگلش میں ڈالنے کی مخا لفت کی ۔ لوگوں نے اس کی بات پر دھیا ن دیا مگر بعد میں بھلا دیا تاہم اس کی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا ۔
    1919ء میں اس نے ایک ہائڈروپلین یعنی تیز رفتار موٹر بوٹ تیار کی 1922ء میں جو اس کا سال وفات تھا اس نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا جس کے متعلق اس کا دعویٰ تھا کہ یہ ریگستانوںمیں سفر کرنے والے مسافروں اور سیاحوں کے لئے ایک بیش بہا آلہ ہے کیونکہ یہ سانس سے نمی کو کشید کرسکتا ہے ۔
    اپنی پوری زندگی کے دوران اس نے بہت سے مقالے اور سائنسی مانوگراف پیش کئے ” آواز” کے لئے تو وہ ایک اتھارٹی تصور کیا جاتا تھا ۔ بطور ایک موجد اس کو لوگوں میںخاصی شہرت حاصل تھی تاہم اس نے بہت زیادہ سائنسی اعزازات حاصل نہیں کئے اس نے بہروں کو بولنا سکھانے کیلئے ایک امریکی تنظیم کی بنیادرکھی کچھ عرصے تک وہ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا صدر رہا 1920 میں اس نے بحر اوقیانوس کو پار کیا اور برطانیہ میں اپنے آبائی شہر ایڈ نبرا آگیا جہاں اس کو شہری اعزاز سے نوازا گیا۔
    1898 ء میں اس کو امریکہ کے ” اسمتھ سونیں انسٹیٹیوٹ ” کے گورنمنٹ بورڈ کا ممبر منتخب کیا گیا ان اعزازات کے علاوہ بھی کچھ تمغہ جات اس کو حاصل ہوئے تاہم وہ اپنی ایجاد ” ٹیلیفون” کو تمام دنیا میں نصب ہوتے اور وائرلیس کے ذریعے براعظموں کو باہم متصل ہوتے دیکھنے کے لئے زندہ رہا ۔
    1880 ء میں فرانس نے گراہم بیل کو ” وولٹا پرائز ”سے نوازا اور 50000فرینکس ( اس وقت دس ہزرا ڈالر کے برابر ) وولٹا لیبار ٹری کے لئے عطا کئے یہی وہ مقام ہے جہاں پر اس نے چارلس سمرٹینسٹر اور اپنے بھتیجے ڈاکٹر چیچیسٹر اے بیل کے ساتھ گرافو فون کو ایجاد کیا ۔ آج کل اس جگہ پر بہروں کی زبانی تربیت کے لئے ایک انٹر نیشنل انفارمیشن سینٹر قائم ہے ۔
    الیگزینڈر گراہم بیل کے خود اپنے نام سے مختلف ایجادات پر 18 پیٹینٹ اور 12 پیٹینٹ اس کے ساتھیوں کی شرکت کے سا تھ منظور کیے گئے تھے ان میں سے 14 پیٹینٹ ٹیلی فون کے لئے چار فوٹو فون کے لئے ایک فوٹو گراف کے لئے پانچ فضائی گاڑیوں کے لئے چارہائیڈو ایئر پلین کے لئے اور دوسیلنیم سیل کے لئے منظور کئے گئے تھے ۔
    گراہم بیل کے بارے میں ایک کہانی یہ مشہور ہے کہ وہ ایک مرتبہ معاشرتی مجلس میں شریک تھا کہ ایک خاتون کو اس کے سامنے لاکر متعارف کرایا گیا یہ ہیں اس دور کے عظیم موجد گراہم بیل ۔ عورت نے اس سے مل کر اپنی خوشی کی اظہار کیا مگر پھر وہ مسکرا کر بولی ” میں اکثر خواہش کرتی ہوں کہ کیا ہی اچھا ہوتاکہ اگر تم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے ” گراہم بیل کو یہ سن کر صدمہ پہنچا ” عورت نے اپنی غلطی محسوس کی اور وہ عنقریب معذرت کا ا ظہار کرنے والی تھی کہ گراہم بیل کی آنکھو ںمیں ایک چمک پیدا ہوئی اور اس نے مسکرا کر جواب دیا ” مجھے آپ سے ہمدردی ہے میں جانور کو کبھی استعمال نہیں کرتا ”۔
    وقت آخر
    دنیا ئے سائنس و ٹیکنالوجی کا اپنے دور کا یہ عظیم سائنس داں 2 اگست 1922 کو اس دارِ فانی سے عالم جاودانی کو کوچ کرگیا ۔ گراہم بیل آخر وقت تک اپنے رو زنامچے میں اندراج کرواتا رہا ۔ موت سے چند دن پیشتر جب وہ روزنامچے میں اندراج کروا رہا تھا تو اس سے کہا گیا تھا ” آپ جلدی نہ کریں ” جس کے جواب میں اس نے کہا ” مجھے جلدی تو کرنی ہے ” روزنامچے میں اس کے یہ الفاظ درج کرلئے گئے یہ اس کا آخری اندراج تھا اس نے ٹھیک ہی تو کہا تھا کہ اسے جلدی تو کرنی ہے کیونکہ وہ اپنے سفر کی آخری منزل میں قدم رکھ چکا تھامنزل قریب سے قریب تر ہوتی جارہی تھی ۔وقت کم رہ گیا تھا اس لئے اس کے لئے جلدی ضروری تھی ۔
    ()()()()
    الیکزینڈر گراہم بیل نے دنیا کو ٹیلی فون کی عظیم نعمت سے نوازا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے خوداپنی ہی زیر تربیت ایک بہری لڑکی کو شریک حیات بنایا جس نے اس کو عظمت کی بلندیوں پر چڑھنے میں زبردست مدد فراہم کی جس کی بناء پر گراہم بیل نے دنیا والوں کو ٹیلی فون کی شکل میں ایک نئی زبان عطاکی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگرچہ ٹیلی فون اس کی عظمت کا چراغ ہے تاہم اس نے سائنس کے دوسرے شعبوں میں بھی اہم ایجادات کیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1670ء میں برطانیہ میں ” سرسیموئیل مورلینڈ ” نے نلکی پر مشتمل میگا فون ایجاد کیا تھا جس کے ذریعہ وہ شاہ چارلس دوئم سے ڈیڑھ میل کے فاصلے سے گفتگو کرسکتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک اسپرنگ کی اتفاقیہ جھنکار نے جو ایک تار پر نشر ہوگئی تھی گراہم بیل کو ہارمونک ٹیلیگراف کی جانب متوجہ کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    10مارچ 1876ء کی ایک یاد گار دوپہر کو دنیا کی پہلی ٹیلی فون کال الیکزینڈر گراہم بیل کے ان الفاظ پر مشتمل تھی ۔۔۔۔ ” مسٹر واٹسن ! پیلیز یہاں آئیے، مجھے آپ کی ضرورت ہے ”
    یہ سنتے ہی واٹسن اچھل پڑا فرطِ مسرت سے دو دو سیڑھیاں چڑھتا ہوا گراہم بیل کے کمرے میں وارد ہوا اور چلا کر بولا!
    میں نے تمہاری آواز سن لی جو کچھ تم نے کہا میں نے واضح طور پر سن لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔!
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر میں کرنٹ یعنی برقی رو کو آواز کے مطابق اسی طرح متغیر کرسکوں جس طر ح ہوا اپنی کثافت کے لحاظ سے متغیر ہوتی ہے تو پھر میں ٹیلی گراف سسٹم سے آواز کو نشر کرسکتا ہوں ۔۔۔
    گراہم بیل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قدرت کا نظام دیکھئے لوگوں کو سماعت اور گفتگو کی سہولتیں کی حیرتناک آسانیاں اور بنی نوع انسان کو ہزاروں میل دور سے ٹیلیفون کے ذریعے گفتگو کرلینے کی مایہ ناز سہولت فراہم کرنے والی عظیم شخصیت کی خوداپنی شریک حیات بہری تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ” آواز” کے لئے تو گراہم بیل ایک اتھارٹی تصور کیا جاتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1876ء میں الیکزینڈر گراہم بیل نے فلاڈیلفیا میں منعقد ہونے والی ” سینٹینل
    ایکسپوزیشن ” میں اپنے ٹیلی فون کا مظاہرہ کیا تار کی دوسری جانب سے گراہم بیل نے ہیلمیٹ کے ایک جملے کو دھرایا
    TO BE OR NOT TO BE
    شہنشاہ برازیل چلا اٹھا
    ” اوخدایا ! یہ تو سچ مچ بولتا ہے !”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گراہم بیل آخر ی وقت تک اپنے رو زنامچے میں اندراج کرواتا رہا ۔ موت سے چند دن پیشتر جب وہ روزنامچے میں اندراج کروا رہا تھا تو اس سے کہا گیا تھا ” آپ جلدی نہ کریں ” جس کے جواب میں اس نے کہا ” مجھے جلدی تو کرنی ہے ” روزنامچے میں اس کے یہ الفاظ درج کرلئے گئے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امریکن انڈین لمبے فاصلوں کی پیغام رسانی کے لئے آگ استعمال کیا کرتے تھے

    اشانتی نامی ڈھول کے ذریعے گفتگو کا طریقہ ابتدائی مواصلاتی طریقوں میں ٹیلیفون سے زیادہ ملتا جلتا ہے
    سکندر اعظم کا عظیم میگا فون جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے انسانی آواز کو بارہ میل کے فاصلے سے سنا جاسکتا تھا

    سول وار کے دوران ۔ یو ایس آرمی ٹیلیگراف یونٹ تاروں کو بچھانے کا کام کررہا ہے ۔
    شہر نیویارک کو سیما فور( پرچمی اشاروں) کے ذریعے جہاز کی آمد سے مطلع کیا جارہا ہے۔

    بچپن میں ہم میں سے تقریباً سب نے ہی ٹین کے ان ڈبوں یا ماچس کے ڈبوں کے ذریعے ٹیلی فون ٹیلی فون کا یہ معصوم کھیل کھیلا ہے
    الیکزینڈر گراہم بیل نے 18اکتوبر
    1892ء میں نیویارک شکاگو ٹیلیفون لائن کا افتتاح کیا ۔

     

     

     

     

     

    2 comments
    onicmedia
    ADMINISTRATOR
    PROFILE

    Posts Carousel

    Leave a Comment

    Your email address will not be published. Required fields are marked with *

    2 Comments

    • Alex Holden
      March 6, 2015, 3:03 pm

      Donec ipsum diam, pretium maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt risus id interdum primis orci cubilla gravida.

      REPLY
    • Linda Gareth
      March 6, 2015, 3:03 pm

      Maecenas dolor, sot donec ipsum diam, pretium gravida nulla maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt.cubilla gravida.

      REPLY

    Latest Posts

    Top Authors

    Most Commented

    Featured Videos