ریاضی کو ایک خشک مضمون تصور کیا جاتا ہے، لیکن بسا اوقات اس میں دلچسپی لینے والوں کو ریاضی کی عجیب و غریب اور دلچسپ خصوصیات سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔
ریاضی کو ایک خشک مضمون تصور کیا جاتا ہے، لیکن بسا اوقات اس میں دلچسپی لینے والوں کو ریاضی کی عجیب و غریب اور دلچسپ خصوصیات سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔
صفر کی قیمت
یوں تو ریاضی میں صفر کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، لیکن عملی طور پر اس کی بھی قیمت ہوتی ہے۔ فرض کریں کہ زاہد کے پاس 10 روپے ہیں اور اسلم کے پاس 100 روپے ہیں، لیکن دونوں کے پاس سے یہ روپے گم ہوجاتے ہیں۔ ریاضی کی رو سے تو ان کے پاس صفر صفر بچا، لیکن زاہد کو صفر بچ جانے کا زیادہ افسوس نہیں ہوگا۔ جبکہ اسلم کو وہی صفر بچ جانے کا زیادہ افسوس ہوگا۔ اس لئے کہ زاہد کے پاس چھوٹا صفر بچا ہے اور اسلم کے پاس بڑا صفر بچا ہے۔ یہ صفر کی قیمت ہے۔
اکائی کا اصول یہاں غلط ہوجاتا ہے
یوں تو ریاضی میں اکائی کا اصول بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور یہ درست بھی ہے، لیکن ہم اسے ایک دلیل سے غلط ثابت کرسکتے ہیں۔ مثلاً ایک الماری کے دروازے کے دو پٹ ہیں۔ اکائی کے قاعدے سے اگر ایک پٹ بند ہو تو آدھا دروازہ کھلا ہے۔ اسی اصول کے مطابق اگر دونوں پٹ بند ہوں تو پورا دروازہ کھلا ہونا چاہئے، لیکن دروازہ پورا بند ہوجاتا ہے اور یہی اصول کی ناکامی ہے۔
قیامت تک ناممکن
فرض کریں ایک کمرہ دس میٹر لمبا ہے۔ یہ فاصلہ دو منٹ میں طے ہوتا ہے، لیکن اگر پہلے آدھا فاصلہ یعنی 5 میٹر آدھے وقت یعنی ایک منٹ میں طے کریں پھر آدھا فاصلہ یعنی ڈھائی میٹر آدھے کا آدھا فاصلہ آدھے منٹ میں طے کریں تو اس طرح ہم یہ فاصلہ قیامت تک طے نہیں کرسکے۔
ایک روپیہ کہاں گیا
تین دوست ایک ہوٹل میں کھانا کھانے گئے۔ کھانا کھانے کے بعد بیرے نے انہیں 30 روپے کا بل دیا۔ تینوں نے دس دس روپے ملا کر مینیجر کو دیئے۔ لیکن مینیجر نے رعایت کرتے ہوئے 5 روپے انہیں واپس کردیئے۔ انہوں نے اس 5 روپوں میں سے دو روپے بیرے کو دیئے اور باقی تین روپے آپس میں ایک ایک بانٹ لئے۔ 30 روپے کے بل کے حساب سے ہر ایک کے حصے میں دس دس روپے آئے اور اب جبکہ انہیں ایک ایک روپیہ واپس مل گیا تو ان کے حصے میں 9,9 روپے آئے اور اس طرح کُل رقم 27 روپے بنتی ہے۔ اگر اس میں بیرے والے روپے بھی جمع کرلیں تو 29 روپے ہوتے ہیں۔ بتائیے ایک روپیہ کہاں گیا جبکہ انہوں نے 30 روپے دیئے تھے۔
1000 ، 2000 کے برابر ہیں
اگر زاہد کے پاس ایک روپیہ ہے اور اسلم کے پاس دو روپے ہیں اور زاہد اسلم سے کہے کہ میرے ایک روپے سے اپنے دو روپے بدل لو تو اسلم ایسا کیونکر کرے گا کیونکہ ایک روپیہ 2 روپے کے برابر نہیں ہے۔ لیکن ایک صاحب نے ایک دوسرے شخص سے 2000 روپے قرض لیا اور جب دینے کا وقت آیا تو اسے 1000 روپے تھمانے لگے۔ اس شخص نے ہزار لینیس ے انکار کیا تو وہ صاحب کہنے لگے کہ یہ بھی 2 ہزار کے برابر ہیں۔
جب بات عدالت میں پہنچی تو وہ صاحب دالت میں بھی اپنی بات پر اسی طرح قائم رہے کہ یہ 1000 ، 2000 کے برابر ہی ہیں۔ جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو ایک ریاضی داں کو بلوایا گیا اور اس سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ٹھیک ہے کہ 1000 ، 2000 روپے کے برابر ہوتے ہیں۔ ریاضی داں نے کہا ہاں یہ ٹھیک ہے۔ اس نے اسے اس طرح ثابت کیا۔ فرض کریں:
x = 1000
x2 = x2
x2 – x2 = x2 – x2
x2 – x2 = x2 – x2
لہٰذا اس شخص کو ریاضی کی بدولت 1000 روپے لینے پڑے۔
ریاضی کا جادو
.1 کوئی عدد سوچیں جو 10 سے کم ہو۔
.2 اسے 3 سے ضرب دیں۔
.3 حاصل میں ایک جمع کریں۔
.4 حاصل کو 3 سے ضرب دیں۔
.5 حاصل میں پہلے سوچے ہوئے عدد کو جمع کریں۔
.6 حاصل سے 3 تفریق کریں۔
.7 اکائی والا عدد کاٹ دیں۔
جو باقی جواب آتا ہے وہی آپ نے سوچا تھا۔
مثال:
فرض کریں سوچا 2
2 . 6 = 3 x 2
3 . 6 = 1 + 6
4 . 7 = 3 x 7
5 . 21 = 2 + 21
6 . 20 = 3 – 23
2 =
وہی عدد
.1 کوئی عدد سوچیں جو دس سے کم ہو۔
.2 اسے دوگنا کریں۔
.3 حاصل میں 4 جمع کریں۔
.4 حاصل کو 5 سے ضرب دیں۔
.5 حاصل میں 12 جمع کریں۔
.6 حاصل کو 10 سے ضرب دیں۔
.7 حاصل میں 320 تفریق کردیں۔
.8 اکائی اور دہائی والے صفر کاٹ دیں جو جواب آتا ہے، وہی آپ نے سوچا ہے۔
مثال:
فرض کریں سوچا 2
2 . 6 = 3 x 2
3 . 6 = 1 + 6
4 . 7 = 3 x 7
5 . 21 = 2 + 21
6 . 20 = 3 – 23
2 =
مربع کے مربع نے مالک بنادیا
ایک شخص ایک فیکٹری میں کام کے لئے گیا تو مالک نے اس سے پوچھا کہ تم ہفتہ کے کتنے پیسے لو گے۔ اس نے کہا پہلے دن ایک پیسہ، دوسرے دن دو پیسے، تیسرے دن دو پیسے کا مربع یعنی چار پیسہ۔ اسی طرح چوتھے دن چار پیسہ کا مربع یعنی 16 پیسہ وغیرہ۔ یہ سنتے ہی مالک نے سوچا کہ اس سے سستا نوکر بھلا کہاں ملے گا۔ اس نے اس شخص کو اس تنخواہ کے اصول پر رکھ لیا۔ جب ایک ہفتہ گزر گیا تو اس کی تنخواہ کا حساب لگایا گیا۔
پہلا دن = 1 پیسہ
دوسرا دن = 2 پیسہ
تیسرا دن = 4 پیسہ
چوتھا دن = 16 پیسہ
پانچواں دن = 256 پیسے
چھٹا دن = 65536 پیسے
ساتواں دن = 4294967296 پیسے
=4294967296 روپے
(4 کروڑ 29 لاکھ 49 ہزار 6 سو 72 روپے 96 پیسہ)
یہ حساب دیکھ کر مالک کے ہوش اُڑ گئے اور وہ سیٹ سے اٹھ گیا اور نوکر سے کہنے لگا ”اس کرسی پر تم بیٹھ جائو۔ اب اس فیکٹری کے مالک تم ہو۔”
کتنی جلدی جمع کرلیا
اعداد کے اس کھیل میں پہلا عدد آپ کا دوست لکھے گا۔ دوسرا عدد اس کے نیچے آپ لکھ دیں گے۔ پھر تیسرا عدد آپ کے دوست کا ہوگا۔ چوتھا عدد آپ کا ہوگا۔ اسی طرح باری باری آپ کا دوست اور آپ اعداد لکھتے جائیں گے۔ اعداد کی تعداد کی کوئی قید نہیں اور نہ ہی یہ قید ہے کہ عدد اتنے ہندسوں کا ہوگا۔ اس کے بعد لکھا جانے والا ہر عدد اتنے ہی ہندسوں پر مشتمل ہوگا۔ اس کھیل میں کمال یہ ہے کہ ان اعداد کو آپ فوراً بغیر حساب لگائے جمع کرلیں گے۔
مثال نمبر .1 آپ کا دوست جو بھی ہندسہ لکھے، آپ 9 میں سے اس ہندسے کو گھٹا کر نیچے حاصل تفریق لکھ دیں۔ مثلاً آپ کا دوست 6 لکھے تو آپ اس کے نیچے 3 لکھ دیں۔ اگر 1لکھے تو آپ 8 لکھ دیں۔ ہلی لائن میں آپ کے دوست نے 43701 لکھا تو آپ نے اس کے نیچے 56298 لکھ دیا۔ ظاہر ہے دونوں لائنوں کا مجموعہ 99999 آئے گا۔ اس طرح کل آٹھ لائنیں ہوگئیں۔ جس میں سے چار آپ کے دوست کی ہیں اور چار آپ کی۔ اب مجموعہ پر غور کریں۔
پہلی لائن آپ کے دوست نے 43701 لکھی۔
دوسری لائن آپ نے لکھی 56298
تیسری لائن دوست نے لکھی 11883
چوتھی لائن آپ نے لکھی 88116
پانچویں لائن دوست نے لکھی 15132
چھٹی لائن آپ نے لکھی 84867
ساتویں لائن دوست نے لکھی 30276
آٹھویں لائن آپ نے لکھی +69723
399996
چونکہ ہر عدد پانچ ہندسوں کا ہے، اس لئے حاصل جمع میں چار 9 آئیں گے۔ اگر ہر عدد چھ ہندسوں کا ہوتا تو حاصل جمع میں پانچ 9 آتے (یعنی ایک کم کرلیتے) اب سوال پیدا ہوتا ہے 9999 کے دائیں بائیں 6 اور 3 کہاں سے آئے۔ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ وہ یہ کہ کُل آٹھ لائنیں ہیں۔ اس کا آدھا ہوا 4 جس کو 9 سے ضرب دیا۔ 9 x 4 = 36 پس 6 اور 3 حاصل ہوگیا۔
مثال نمبر .2 اپنے دوست کے ہر عدد کے نیچے آپ ایک عدد لکھتے گئے، اس طرح کہ آپ کے اور آپ کے
دوست کا عدد 1234
آپ کا عدد 8765
دوست کا عدد 9011
آپ کا عدد 0988
دوست کا عدد 6622
آپ کا عدد +3377
29997
دوست کے اعداد کا مجموعہ 9999 رہے۔ ہر عدد چونکہ چار ہندسوں کا ہے، اس لئے حاصل جمع میں تین 9 آئیں گے۔ کُل عدد چھ ہیں۔ اس کا آدھا 3 ہوا۔ 3کو 9 سے ضرب دینے سے 27 حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ 27 کا 7 اور 2، 999 کے دائیں بائیں لکھے جائیں گے۔
سولہ خانوں کا چارٹ
سامنے درج شدہ سولہ خانوں کے چارٹ میں اسے 16 تک اعداد اس ترتیب سے لکھے گئے ہیں کہ کسی طرف سے بھی جمع کرنے سے مجموعہ 34 آتا ہے۔
4
14
15
1
9
7
6
12
5
11
10
8
16
2
3
13
ہندسے الٹ جائیں گے۔
دیکھا آپ نے 4 سے ضرب دینے سے کیا ہوا؟ ہندسے الٹ ہوگئے۔
21978
x4
87912
8 کو آٹھ مرتبہ لکھیں
کیا آپ 8 کے ہندسے کو آٹھ مرتبہ اس ترتیب سے اوپر نیچے لکھ سکتے ہیں کہ عمودی طور پر ان کو جمع کرنے سے 1000 آئے۔
کپڑے کی قیمت بتائیں
ایک میٹر لمبا اور ایک میٹر چوڑا کپڑا 16 روپے کا آتا ہے تو بتائو آدھا میٹر لمبا اور آدھا میٹر چوڑا کپڑا کتنے کا آئے گا؟
بیس روپے بیس پرندے
ایک طوطا 25 پیسے کا ہے
ایک کبوتر 50 پیسے کا ہے اور
ایک فاختہ 4 روپے کی ہے
بتائو کتنی کتنی تعداد میں کون کون سے پرندے خریدے جائیں کہ 20 روپے میں پورے بیس پرندے آجائیں۔
ایک باقی بچتا ہے
ایک عدد کو اگر 2 سے، 3 سے، 5 سے یا 6 سے تقسیم کیا جائے تو ہر صورت میں 1 باقی بچتا ہے۔ لیکن وہ عدد 7 سے پورا پورا تقسیم ہوجاتا ہے۔ کیا آپ وہ عدد بتاسکتے ہیں؟
کتنے کلو سیب لایا تھا؟
صبح کے وقت طارق جتنے کلو سیب لے کر آیا تھا اس کے آدھے سیب اس نے شام تک بیچ دیئے، نیز آدھا کلو سیب خراب ہوگئے۔ بیچنے اور خراب ہونے کے بعد طارق کے پاس 19 کلو سیب باقی بچے۔ بتائو صبح کے وقت وہ کتنے کلو سیب لے کر آیا تھا؟
دو مختلف حساب
دوپہر کے وقت ندیم کے 30 پیاسے گھوڑوں کو بہشتی نے پانی پلایا۔ پانی پلانے کا معاوضہ طے ہوا کہ ایک روپے میں دو گھوڑے پانی پئیں گے۔ ندیم نے شام کو رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ شام کو واپسی پر دوبارہ ندیم نے اپنے 30 گھوڑوں کو پانی پلوایا مگر چونکہ اس وقت گھوڑے کم پیاسے تھے، اس لئے معاوضہ طے ہوا کہ ایک روپے میں 3 گھوڑوں کو پانی پلائے گا۔ رقم کی ادائیگی کے وقت دونوں نے اپنے اپنے طور پر حساب کیا۔
بہشتی کا حساب
دوپہر کے وقت 2 گھوڑوں کو پانی پلانے کا ایک روپیہ۔
اس لئے 30 گھوڑوں کو پانی پلانے کے 15 روپے۔
شام کے وقت 3 گھوڑوں کو پانی پلانے کا ایک روپیہ۔
اس لئے 30 گھوڑوں کو پانی پلانے کے 10 روپے۔
لہٰذا کُل رقم 25 روپے بہشتی نے طلب کی۔
ندیم کا حساب
30 گھوڑوں کو دوپہر میں اور 30 کو شام میں پانی پلایا، اس طرح کُل 60 گھوڑوں کو پانی پلایا۔
دوپہر کے وقت 2 گھوڑوں کو 1 روپے میں پانی پلایا۔
شام کے وقت 3 گھوڑوں کو 1 روپے میں پانی پلایا۔
اس طرح کُل 5 گھوڑو کو 2 روپے میں پانی پلایا۔
اس لئے 60 گھوڑوں کو پانی پلانے کے 24 روپے ہوئے۔
لہٰذا ندیم نے 24 روپے دینے پر اصرار کیا۔
کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ کس کا حساب درست تھا؟
وقت کی بچت کے لئے
سہیل کی اسٹیشنری کی دکان پر بہت رش رہتا تھا۔ جب کوئی گاہک زیادہ کاپیاں خریدنے آتا تو کاپیوں کو گننے میں بہت دیر لگ جاتی تھی۔ چنانچہ وقت کی بچت کے لئے سہیل نے کثیر تعداد میں کاپیوں کے سات بنڈل بنا کر رکھ لئے۔ ان بنڈلوں میں کاپیوں کی تعداد حسب ذیل تھی۔
1 2 4 8 16 32 37
یہ بنڈل سو تک ہر تعداد کو پورا کرتے ہیں۔ مثلاً:
کوئی 21 کاپیاں مانگے تو = 1+4+16
کوئی 29 کاپیاں مانگے تو = 1+4+8+16
کوئی 40 کاپیاں مانگے تو = 1+2+37
کوئی 75 کاپیاں مانگے تو = 1+37+37
کیا آپ 50 ، 60 اور 100 کاپیوں کے سیٹ بناسکتے ہیں؟
گاہک کی پتیلی میں 4 لیٹر دودھ ڈالنا ہے
گاہک گوالے کے پاس پتیلی لے کر آیا کہ اس میں 4لیٹر دودھ دے دو مگر گوالے کے پاس 5 لیٹر اور 3لیٹر ناپ کے برتن ہیں۔ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ وہ ان دو ناپوں کی مدد سے 4 لیٹر دودھ کس طرح دے گا؟ اگر نہیں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
.1 پہلے وہ برتن ”بی” کو بھر کر ”اے” میں ڈالے گا۔ اس طرح ”اے’ میں 3 لیٹر دودھ آگیا باقی 2لیٹر کی گنجائش ہے۔
.2 دوبارہ ”بی” کو بھر کر ”اے” میں اتنا دودھ ڈالے کہ ”اے” پورا بھرجائے۔ ”اے” میں 2لیٹر کی گنجائش تھی وہ پوری ہوگئی۔ باقی ایک لیٹر دودھ ”بی” میں بچ گیا۔
.3 ”بی” میں بچا ایک لیٹر دودھ گاہک کی پتیلی میں ڈال دے گا۔
.4 ”بی” میں بھر کر 3 لیٹر دودھ گاہک کی پتیلی میں مزید انڈیل دے گا۔ پورا چار لیٹر ہوگیا۔
ایک سوال اکائی کا
ایک آدمی ایک ہاتھ میں چار جھنڈے پکڑسکتا ہے تو وہ دونوں ہاتھوں میں آٹھ جھنڈے پکڑے گا۔
اب آپ بتائیے۔
ایک آدمی ایک آنکھ سے پانچ میل دور تک دیکھ سکتا ہے تو بتائو دو آنکھوں سے کتنے میل دور تک دیکھ سکے گا؟
حاصل جمع = حاصل ضرب
تین اعداد بتائو جن کا حاصل جمع بھی 6 ہے اور حاصل ضرب بھی 6۔
ایک کا ہندسہ
“1” کا ہندسہ دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں یکساں شکل کا ہے۔ البتہ چین کی قدیم زبان میں یہ عمودی کی بجائے افقی طور پر لکھا جاتا ہے یعنی “—–“
مظاہر قدرت اور سات کا ہندسہ
کیا مظاہر قدرت میں سات کا ہندسہ اہمیت کا حامل ہے؟
پہلے برسوں تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ انسان کے سر پر سات آسمان ہیں یعنی یہ نیلا آکاش جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور جدید سائنسی تحقیق کے مطابق محض ”حدنگاہ” ہے۔ اس کے پیچھے چھ آکاش اور ہیں۔
بقول مرزا غالب
ران دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
قوس و قزح سات رنگوں پر مشتمل ہے۔ سورج کی روشنی بھی سات رنگوں سے مرکب ہے۔ لیکن اس ضمن میں سب سے دلچسپ بات ایک سمندری پرندے الباترس albatross سے متعلق ہے جو بحراوقیانوس اور جنوبی بحیروں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی مادہ عمر میں سات انڈے دیتی ہے۔ یہ پرندے ہمیشہ سات کا غول یا گروپ بنا کر اُڑتے ہیں۔ الباترس کی عمر بھی سات سال ہوتی ہے۔
ہندسی عمارت
یونان کی انوکھی عمارت ”زبمینا” شاہ فلپ ثالث نے بنوائی تھی ”زبمینا” کے معنی ہیں ”ہندسی عمارت”۔ اٹھارہویں صدی عیسوی تک یہ عمارت دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتی رہی ہے، لیکن گردش زمانہ نے اب اس کے آثار تقریباً معدوم کردیئے ہیں۔ شاہ کو جیومیٹری کا انتہائی شوق تھا۔ اس کی تعمیر میں اس نے ماہرین ہندسہ سے خاص مدد لی تھی۔ مذکورہ عمارت کی تین منفرد خصوصیات تھیں جو ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔
.1 زبمینا کے آٹھ ہم شکل برج تھے۔ لیکن وہ اس حکمت عملی سے بنائے گئے تھے کہ جس طرف سے بھی دیکھو سات نظر آتے تھے۔ 1511ء میں ایک سیاح یونان آیا۔ حکمران وقت سے اس کی شرط لگی کہ وہ برجوں کو گن کر دکھائے گا۔اس نے بہت کوشش کی بلندی پر چڑھ کر بھی گنا، مگر ہمیشہ سات ہی نظر آئے۔ دراصل کسی زاوئیے سے بھی دیکھو، دو برج ہر حالت میں ایک دوسرے کے اوپر چڑھ کر منطبق ہوجاتے تھے، جس طرح بارہ بجے کے وقت گھڑی کی ایک سوئی دوسری کو چھپا لیتی ہے۔ ہوتی فی الواقع دو ہیں مگر ہمیں ایک ہی نظر آتی ہے۔
.2 عمارت کے تین دروازے تھے۔ لوگ اپنے حسب منشاء دروازے سے باہر نہیں آسکتے تھے۔ پتہ نہیں عمارت کی بھول بھلیاں انہیں کس دروازے سے باہر نکالے۔ خود عمارت کے معمار اس سلسلے میں دھوکہ کھاجاتے تھے۔ تمام اندرونی راستے خطوط منحنی (curve lines) شکل کے تھے۔ بعض مرتبہ نوواردوں کو باہر آنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے تھے۔ کہتے ہیں 1617ء میں ایک مصاحب زبمینا میں داخل ہوگا مگر پھر باہر نہیں آیا۔ بعد میں اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گیا۔ اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھاگیا۔ گورنر نے عمارت کو منحوس سمجھ کر اس کا بیشتر حصہ منہدم کروادیا۔
.3 زبمینا میں ایک سائونڈ پروف بیٹھک تھی۔ کتنی بھی زور سے بولیں اس کی آواز باہر نہیں جاتی تھی۔ خفیہ اجلاس کرنے کے لئے یہ بیٹھک مخصوص تھی۔
45 – 45 = 45
تمام ہندسوں کا مجموعہ 45 987684321
تمام ہندسوں کا مجموعہ 45 -123456789
تمام ہندسوں کا مجموعہ 45 864197532
مندرجہ بالا تینوں لائنوں کو دیکھئے۔ اس تفریقی عمل کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ہر لائن میں اسے 9 تک تمام ہندسے موجود ہیں۔
کیلنڈر کے رموز
کسی بھی سال کا کیلنڈر اٹھا کر دیکھ لیں۔ اس میں آپ کو حسب ذیل خاص باتیں نظر آئیں گی۔
.1 فروری، مارچ اور نومبر کے مہینے ایک ہی دن سے شروع ہوتے ہیں۔
.2 یکم اکتوبر کو وہی تاریخ ہوگی جو یکم جنوری کو۔
.3 یکم اپریل کو جو دن ہوگا وہی دن یکم جولائی کو ہوگا۔
.4 یکم ستمبر اور یکم دسمبر کو ایک ہی دن ہوگا۔
.5 مئی، جون اور اگست ہمیشہ الگ الگ دن سے شروع ہوں گے۔
.6 کوئی بھی صدی اتوار، بدھ اور جمعہ سے شروع نہیں ہوگی۔
ذہن کی آزمائش
حسب ذیل دس سوالات میں اعداد کی منطق (logic) کو پہچانئے اور جوابات دیجئے۔ ہر سوالیہ نشان کی جگہ آپ کو ایک عدد معلوم کرنا ہے۔
.1 250(13)321
217(19)405
152(?)318
.2 34,18,10,6,4,?
.3 16 4 7
23610
?29
.4 3,5,9,?,33
.5 2 4 1 3 2
4323
533
ایک ہندسی چارٹ
ایک ہندسی چارٹ دیا گیا ہے۔ اس چارٹ میں تین باتیں آپ کو نظر آئیں گی۔
.1 1 سے 9 تک تمام ہندسے آگئے۔
2
9
4
7
5
3
6
1
8
.2 ایک ہندسہ صرف ایک مرتبہ آیا۔
.3 کسی بھی طرف سے جمع کرنے سے مجموعہ 15 آئے گا۔
جمع کرنے کا انوکھا طریقہ
روز مرہ زندگی میں بیشتر مواقع پر ہمیں ایسے اعداد کو جمع کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جن کے درمیان ایک مشترک فرق موجود ہو۔ جیسے مثال نمبر 1 میں ہر دو عدد کے درمیان کا فرق 2 اور مثال نمبر 2 کے اعداد میں تین کا فرق موجود ہے۔ ایسے اعداد کو آپ چند سیکنڈ میں جمع کرسکتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ پہلے اور آخری عدد کو جمع کرلیں اور حاصل جمع کو اعداد کی تعداد کے آدھے سے ضرب دے دیں، پس وہی جواب ہوگا۔ مزید وضاحت کے لئے حسب ذیل پہلا عدد 2 اور آخری 16 ہے۔
2 + 16 = 18
اعداد کی کل تعداد آٹھ ہے جس کا نصف چار ہوا۔ چنانچہ درج بالا حاصل جمع کو چار سے ضرب کریں گے۔ یعنی
18 x 4 = 72
مثال 1 ملاحظہ کیجئے
2
4
6
8
10
12
14
16 +
72
مثال .2
1
4
7
10
13
16 +
51
پہلا عدد 1 اور آخری 16 ہے۔
1 + 16 = 17
اعداد کی کُل تعداد چھ ہے۔ اس کا نصف تین ہوا۔ چنانچہ حسب بالا حاصل جمع کو تین سے ضرب دیں گے۔ یعنی
17 x 3 = 51
نو کا پہاڑہ
9 کا ہندسہ ایک جاندار ہندسہ ہے جو مختلف خصوصیات کا حامل ہے۔ نیچے درج شدہ 9 کے پہاڑے پر غور کیجئے۔ اس میں آپ نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے دو گنتیاں ملاحظہ کریں گے۔ الف کی عمودی لائن میں سیدھی گنتی اور ب کی عمودی لائن میں الٹی گنتی ہے۔
بوجھو تو جانیں
آئیے ہم آپ کو ایک کھیل بتائیں جس سے آپ اپنے ساتھیوں کو حیرت میں ڈال دیں گے۔ اپنے دوست سے کہیں کہ وہ حسب ذیل مدارج عمل آپ کو بغیر دکھائے اپنے طور پر کرے اور پھر آخر میں ایک نامعلوم ہندسہ آپ سے پوچھے جو آپ کو بوجھنا ہے۔
.1 کوئی سا بھی چار، پانچ یا چھ ہندسوں والا عدد لکھے۔ مثلاً اس نے لکھا: 72154
.2 تمام ہندسوں کو جوڑلے یعنی
7 + 2 + 1 + 5 + 4 = 19
.3 19 کو اس عدد میں سے گھٹالے:
7 2 1 5 4
19-
7 2 1 3 5
.4 کسی ایک ہندسہ پر دائرہ بنالیں اور باقی ہندسوں کو جمع کرلیں۔ مثلاً اوپر 3 پر دائرہ بناناے کے بعد
7+2+1+5 = 15
آیا جو مجموعہ ثانی کہلائے گا۔
.5 اب وہ مجموعہ ثانی یعنی 15 آپ کو بتادے اور آپ سے پوچھے کہ دائرہ کس ہندسے پر بنایا تھا؟ آپ فوراً دائرہ والا ہندسہ 3 بوجھ لیں گے، حالانکہ اوپر بیان کردہ پورا عمل اس نے آپ کو بغیر دکھائے کیا ہے۔ وہ اس طرح کہ آپ نے 18 میں سے مجموعہ ثانی 15 گھٹادیا، حاصل ہوا 3۔ وہی جواب ہے۔ دیکھئے اگر مجموعہ ثانی 9 سے چھوٹا ہو تو دائرہ والا ہندسہ معلوم کرنے کے لئے مجموعہ ثانی کو 9 سے گھٹائیں گے۔ اگر مجموعہ ثانی 9 سے بڑا اور 18 سے چھوٹا ہو تو دائرے والا ہندسہ معلوم کرنے کے لئے مجموعہ ثانی کو 18 میں سے گھٹائیں گے۔ اگر مجموعہ ثانی 18 سے بڑا اور 27 سے چھوٹا ہو تو اس کو 27 میں سے گھٹائیں گے اور اگر 27 سے بڑا اور 36 سے چھوٹا ہو تو 36 میں سے گھٹائیں گے۔
مثال نمبر .2
.1 آپ کے دوست نے آپ سے چھپا کر عدد 478126 لکھا۔
.2 4+7+8+1+2+6 = 28
.3 478126
28-
478098
.4 آپ کے دوست کو اختیار ہے کسی بھی ایک ہندسے پر دائرہ بنادے۔ فرض کیجئے اس نے 7 پر دائرہ بنایا اور باقی ہندسوں کو جمع کیا تو مجموعہ ثانی 29 آیا
(4+8+0+9+8 = 29)
مجموعہ ثانی بتا کر آپ سے دائرہ والا ہندسہ پوچھے گا۔ آپ فوراً 36 میں ے 29 تفریق کریں گے۔
دائرہ والا ہندسہ 36-29 = 7
سلسلہ وار عدد معلوم کرنا
2, 5, 8, ………..
اوپر دیئے گئے سلسلہ اعداد میں پہلی مرتبہ 2 آرہا ہے۔ دوسری مرتبہ 5 تیسری مرتبہ 8۔ اگر کوئی آپ سے پوچھے گیارہویں مرتبہ کیا آئے گا؟ تو یہ معلوم کرنے کے لئے محض چند سیکنڈ کا حسابی عمل ہے (ذہن نشین رہے اس مثال میں اعداد کا درمیان فرق 3 ہے)
.1 جو پوچھا جارہا ہے اس میں سے ایک کم کر کے درمیانی فرق سے ضرب دے دو۔ چونکہ گیارہویں مرتبہ پوچھا جارہا ہے، اس لئے اس میں سے ایک کم کیا تو 10 آیا۔ 10 کو درمیانی فرق 3 سے ضرب دو۔
10×3 = 30
.2 حاصل ضرب 30 میں پہلا عدد 2 جوڑ لیں جو مطلوبہ جواب ہے۔ 30+2=32
یعنی گیارہویں مرتبہ 32 آئے گا۔ اب جواب کی پڑتال کرو۔
2,5,8,11,14,17,
20,23,26,29,32 گیارہویں مرتبہ
دوسری مثال:
بتائو اکیسویں مرتبہ کیا آئے گا؟
4,8,12, ………..
.1 اکیس میں سے ایک کم کیا 20 آیا۔ 20 کو درمیانی فرق 4 سے ضرب دیا۔ 20×4 = 80
.2 80 میں پہلا عدد 4 جمع کیا۔ 80+4 = 84
پس اکیسویں مرتبہ 84 آئے گا۔ جواب کی پڑتال:
4,8,12,16,20,24,28,32,36,40,44,48,52,
56,60,64,68,72,76,80,84 اکیسویں مرتبہ
ہندسوں کی دلچسپ تکرار
اگر آپ اپنے کسی دوست کو حیرت میں ڈالنا چاہتے ہںی تو اس سے کہئے کہ وہ ایک سے 9 کے درمیان کوئی سا بھی ہندسہ بولے۔ مثلاً اس نے کہا 2۔ آپ اس 2 کو 9 سے ضرب دیں۔ 18 آیا۔ اب اس سے کہیں 18 کو 12345679 سے ضرب دے۔ حاصل ضرب میں آپ کا دوست اسی ہندسہ کی 9 مرتبہ تکرار پائے گا جو اس نے شروع میں بولا تھا یعنی:
دوسری مثال:
فرض کیجئے آپ کے دوست نے بولا “1”
آپ 1 کو 9 سے ضرب دیں۔ 9 ہی حاصل ہوا۔
12345679 کو 9 سے ضرب دینے سے حاصل ضرب 1 کی تکرار پر مشتمل ہوگا۔
۔g
4 comments
















4 Comments
Linda Gareth
March 6, 2015, 3:02 pmMaecenas dolor, sot donec ipsum diam, pretium gravida nulla maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt.cubilla gravida.
REPLYAlex Holden
March 6, 2015, 3:05 pmDonec ipsum diam, pretium maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt risus id interdum primis orci cubilla gravida.
REPLYAnna Shubina@Alex Holden
March 6, 2015, 3:06 pmMaecenas dolor, sot donec ipsum diam, pretium gravida nulla maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt.cubilla gravida.
REPLYHeather Dale@Alex Holden
March 6, 2015, 3:06 pmDonec ipsum diam, pretium maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt risus id interdum primis orci cubilla gravida.
REPLY