Amali Science Banner

فیسنڈن

فیسنڈن

ریڈیو اور براڈکاسٹنگ کا پیش رو
آج دنیا فیسنڈن کے نام کو مشکل ہی سے جانتی ہے لیکن ریڈیو اور الیکٹرونکس کی تاریخ کے ماہرین اس کے نام اور کارناموں سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ریڈیو اور براڈکاسٹنگ کا پیش رو
آج دنیا فیسنڈن کے نام کو مشکل ہی سے جانتی ہے لیکن ریڈیو اور الیکٹرونکس کی تاریخ کے ماہرین اس کے نام اور کارناموں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس لئے کہ اس کا نام شمالی امریکہ کے بڑے بڑے ایجاد کنندگان میں شامل ہے۔ وہ پہلا شخص گزرا ہے جس نے ریڈیو کی نشریات شروع کیں۔ اگرچہ ریڈیو کی ترقی میں بہت سی قوموں اور مؤجدوں نے حصہ لیا، لیکن فیسنڈن کو بابائے ریڈیو نشریات کا خطاب دیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔*۔۔۔
ٹیکنالوجی پر مبنی فنون کے متعلق ریڈیو نشریات کو کسی ایک شخص نے ایجاد نہیں کیا۔ یوں سمجھئے کہ ان کا کوئی واحد خالق نہیں۔ پھر ہم ریڈیو براڈکاسٹنگ کے باپ یا خالق سے مراد ایسا شخص لیں گے جس نے سب سے پہلے آوازوں اور موسیقی کو نشر کیا۔ لوگوں نے انہیں سمجھا اور سنا۔ اس کا سہرا ریجنالڈ فیسنڈن کے سر جاتا ہے جو 1866ء میں پیدا ہوا اور 1932ء میں وفات پائی۔
1880ء کے دوران ایک روز فیسنڈن، ایڈیسن کی بجلی کے بلب تیار کرنے والی فیکٹری میں ملازمت کے لئے آیا۔ وہ ایک عظیم الجثہ ، لمبا تڑنگا جوان تھا۔ کینیڈا میں ایک پادری کے گھر پیدا ہوا۔ چند برس کینیڈا اور برمودا میں اسکول ماسٹر رہا اور اب اپنے علم الحساب میں مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لئے نیویارک آیا تھا۔
فیسنڈن نے اپنی درخواست کے ہمراہ کارڈ بھی پیش کیا جس پر اندر سے ایڈیسن نے یوں جواب لکھا کہ ’’میں بہت مصروف ہوں، آپ بجلی کے متعلق کیا کچھ علم رکھتے ہیں، تحریر کریں۔‘‘
اس وقت بجلی کے متعلق جو معلومات تھیں، فیسنڈن ان سے کماحقہ واقف تھا۔ اس کے باوجود اس نے مختصر جواب لکھا ’’میں بجلی کے متعلق کوئی معلومات نہیں رکھتا، البتہ بہت جلد پڑھ اور سیکھ جاؤں گا۔‘‘
ایڈیسن نے جواب لکھا ’’ہمارے پاس اس وقت بہت سے ایسے اشخاص موجود ہیں جو بجلی کے علم سے قطعی نابلد ہیں۔‘‘
اس کے چند روز بعد اسے کارخانہ میں ملازم رکھ لیا گیا۔ ایک روز اس نے ایڈیسن کو اپنے پیغام کے جواب سنائے تو ہنس کر کہنے لگا کہ اس دن میرا موڈ بہت خراب تھا۔
ایڈیسن نے فیسنڈن کو نیویارک کے شہر میں بچھائے گئے بجلی کے تاروں کا معائنہ کرنے پر بطور انسپکٹر متعین کردیا۔ وہ بازاروں میں روشنی پہنچانے والے تاروں کی دیکھ بھال بھی کرتا تاکہ لوگوں کو بار بار بجلی بند ہونے کی زحمت سے بچاسکے۔ جلد گڑھا کھودتا، نقص دور کرتا اور پولیس والوں کے اگلے پھیرے سے قبل گڑھے کو بھر کر سڑک ہموار کردیا جاتا۔
ایسے ہی ایک روز فیسنڈن اپنے کام میں مصروف تھا کہ مشہور و معرو ف بینکار جے۔پیرپونٹ مورگن، جو ایڈیسن کو سرمایہ فراہم کیا کرتا تھا اور ایڈیسن نے اسی کے گھر کو سب سے پہلے بجلی مہیا کی، بازار میں دوڑا آیا اور غصہ میں فیسنڈن پر برس پڑا کہ اس کے گھر بجلی کیوں بند کی گئی ہے؟ فیسنڈن نے اسے تمام حالات سے آگاہ کیا تو مورگن اسے اپنے گھر لے گیا اور بجلی کے تاروں میں آگ بھڑک اٹھنے کو روکنے کی تدابیر دریافت کیں۔ فیسنڈن نے تاروں کو لوہے کی نالیوں کے اندر رکھنے کی تجویز پیش کی، جو مدتوں اسٹینڈرڈ طریقہ کار رہا۔
آہستہ آہستہ فیسنڈن کو ایڈیسن نے کارخانہ کا چیف کیمسٹ مقرر کردیا۔ اسی طرح وہ ویسٹنگ ہاؤس بجلی کمپنی میں بھی اسی عہدہ پر فائز رہا۔ پرویو اور پٹسبرگ یونیورسٹی میں بجلی کا پروفیسر بھی رہا۔ اور ویسٹنگ ہاؤس کے لئے بجلی کے بلب بھی تیار کرتا رہا۔ اپنے نام پر کئی ایک پیٹنٹ حاصل کئے، جن میں مائیکرو فوٹو گرافی بھی شامل تھی اور کچھ عرصہ امریکہ کے محکمہ موسمیات میں وائرلیس کے پیغام ارسال کرنے پر متعین رہا۔
مائیکل فیراڈے اور جوزف ہنری کے 1830ء میں الیکٹرو میگنٹ کی دریافت سے وائرلیس کے ذریعے پیغامات ارسال اور وصول کرنے کے ذرائع دریافت ہوئے اور اس صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے یہ عیاں ہونے لگا کہ الیکٹرک کرنٹ کے خارج ہونے سے فاصلہ پر موجود کنڈکٹر بھی متاثر ہوجاتے ہیں جن پر انگلستان میں جیمس کلارک میکسویل اور جرمنی میں فان ہلم ہولز اور ہنریش ہرٹز نے بہت زیادہ تحقیقات کیں اور معلومات فراہم کیں۔
1880ء اور 1890ء کے درمیان بہت سے سائنسدانوں اور انجینئروں نے وائرلیس کے ذریعہ بات چیت کرنے کے ذرائع حاصل کرنے کی سعی کی۔ اس دوران ایڈیسن نے ٹیلیگراف کو ترتیب دے دیا جس کے ذریعہ دوڑتی ریل گاڑی ریلوے لائن کے قریب نصب تاروں سے پیغامات حاصل کرلیتی۔ مگر اس ایجاد کو یہ کہہ کر نظرانداز کردیا گیا کہ چونکہ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ بہت سے تار گزرتے ہیں، اس لئے ریل کے اندر موجود آلات ان سب تاروں کے پیغامات سنتے چلے جاتے ہیں جن سے واضح پیغام کے بجائے آوازوں کا ملغوبہ ابھر آتا ہے۔
آخرکار ایک نوجوان اطالوی انجینئر مارکونی نے بہترین قسم کا آلہ تیار کرلیا جسے فرانس کے ایڈورڈ برینلے اور اس کے ساتھ روس کے الیگزنڈر پولوف نے انٹینا اور ایریل کو شامل کر کے مکمل سیٹ ایجاد کرلیا۔ اس طرح اولین عملی وائرلیس ٹیلیگراف کو ایجاد کرنے کا سہرا مارکونی کے سر باندھا گیا۔ 1890ء تک وہ مورس کوڈ میں 36 میل دور تک سمندری جہازوں کو پیغامات بھیج دیا کرتا۔ یوں کئی ایک جہاز چٹانوں کے ساتھ ٹکرانے سے بچ رہے۔
اس دوران فیسنڈن کو بحراوقیانوس کے جزائر میں محکمہ موسمیات کے لئے کام کرنے پر متعین کیا گیا۔ وہاں اس نے وائرلیس کی لہروں کو پکڑنے کے لئے نہایت اعلیٰ قسم کا ایک آلہ تیار کیا جس کے آگے مارکونی کے تیار کردہ آلات کوئی معنی نہ رکھتے تھے۔ مگر محکمہ موسمیات کے حاکم اعلیٰ کے ساتھ جھگڑا ہوجانے پر فیسنڈن نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ویسے بھی کاہل قسم کا انسان نہ تھا بلکہ اپنے اندر بے پناہ تحقیقی صلاحیتیں رکھتا تھا، اس لئے جلد بھڑک اٹھتا۔ ساتھیوں کے ساتھ جھگڑے مول لینے کا عادی تھا بلکہ مقدمہ بازی میں خوش رہتا تھا۔ دوسری طرف اس کی ایجادات کا کوئی حدوشمار نہ کیا جاسکتا تھا۔ امریکی ایجادات اور دریافتوں کی تاریخ میں اس کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ کیونکہ 500 سے زائد ایجادات اس کے نام منسوب کی جاتی ہیں۔ البتہ ایڈیسن کے نام پر 1093 اور الیوٹامس کے نام پر 692 چلی آتی ہیں۔ فیسنڈن کے ابتدائی پیٹنٹ میں ایک پارکنگ گیراج کا خاکہ بھی پیش کیا گیا تھا جس میں گاڑیاں اٹھانے، انہیں لادنے اور اپنی مخصوص جگہ پر رکھنے کے مکمل انتظامات کو واضح طور پر بیان کیا گیا تھا مگر موٹروں کے عام ہونے تک اس مفید پیٹنٹ کی عمر ختم ہوچکی تھی۔ جن دنوں فیسنڈن دور دراز جزیروں میں بیٹھا محکمہ موسمیات کے لئے کام کر رہا تھا تو اس کے دل میں ترنگ اٹھی کہ کسی طور انسانی آوازوں اور موسیقی کو تاروں کی مدد کے بغیر دور دراز مقامات بھیجنے کے انتظامات کئے جائیں۔ یوں تو انسانی کان آواز کی لہروں کو 15 سے 20 ہزار تھرتھراہٹ فی سیکنڈ تک سن اور محسوس کرلیتے ہیں۔ دوسری طرف موجود وائرلیس کے آلات 15 ہزار سے لے کر کروڑہا تھرتھراہٹیں سن سکتے ہیں۔
فیسنڈن نے ہائی فریکوئنسی والی ہرٹز لہروں کو استعمال میں لاکر صاف آواز میں سننے کی سعی کی اور سرکاری ملازمت چھوڑنے کے بعد پٹزبرگ کے دو امیر کبیر اشخاص بینکار ایچ گیون اور صابن ساز جے واکر کو ریڈیو ٹیلیفون کی تعمیر و ترقی کے لئے مالی امداد فراہم کرنے پر رضامند کرلیا۔
اتنے میں ایک اور صاحب فہم ایجاد کنندہ پی ڈی فارسٹ سے سابقہ پڑا۔ جس نے ساحل سمندر پر وائرلیس کے آلات نصب کر کے فیسنڈن کے پیغامات کو جام کرنا شروع کردیا جس پر فیسنڈن کے سرمایہ مہیا کرنے والوں نے اسے امریکہ کے مشرقی اور اسکاٹ لینڈ کے مغربی ساحل پر دو طرفہ پیغامات ارسال اور وصول کرنے کے لئے آلات نصب کرنے کو کہا جس سے 11جنوری 1906ء کو باقاعدہ پیغامات کی ترسیل کا آغاز کردیا گیا جو سال بھر چلتا رہا تاآنکہ اسکاٹ لینڈ والا وائرلیس کا مینار طوفان کی نذر ہوگیا۔
1906ء کے بڑے دنوں میں فیسنڈن نے اولین ریڈیو ٹیلیفون کے ذریعہ پیغامات نشر کئے۔ جن لوگوں کے پاس پیغامات موصول کرنے والے سیٹ موجود تھے، وہ موسیقی کی تانیں سن کر دنگ رہ گئے۔ اس کے بعد تقاریر اور نظمیں بھی سنائی گئیں اور اب تو فیسنڈن کے پیغامات 500 میل تک سنے جانے لگے۔ آخرکار فیسنڈن کی کمپنی کو ریڈیو کارپوریشن آف امریکہ نے خریدلیا اور 1928ء میں اسے اتنا روپیہ ادا کردیا جس سے وہ بقایا زندگی سکھ چین سے بسر کرسکے مگر اسے تو بڑھاپے میں بلڈپریشر اور دل کے عارضہ نے گھیرلیا تھا۔
فیسنڈن نے زندگی کے آخری ایام اپنی برمودا والی اسٹیٹ میں بسر کئے۔ وہاں اسے دل کے دورے پڑتے رہے اور وہ 23 جولائی 1932ء کو وفات پاگیا۔ آج دنیا فیسنڈن کے نام کو بمشکل ہی جانتی ہے۔ البتہ ریڈیو اور الیکٹرونکس کی تاریخ کے ماہرین اس کے نام اور کارناموں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ افسوس اسے جو مقام ملنا چاہئے تھا وہ نصیب نہ ہوسکا؟
بہرحال اس کا نام شمالی امریکہ کے بڑے بڑے ایجاد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ پہلا شخص گزرا ہے جس نے ریڈیو کی نشریات شروع کیں۔ بیشک ریڈیو کی ترقی میں بہت سی قوموں اور ان کے طباعوں نے حصہ لیا مگر ہم فیسنڈن کو بابائے ریڈیو نشریات کا خطاب دے سکتے ہیں۔

 

5 comments
onicmedia
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

5 Comments

  • Alex Holden
    February 27, 2015, 2:52 pm

    Maecenas dolor, sot donec ipsum diam, pretium gravida nulla maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt.cubilla gravida.

    REPLY
    • Lian Holden@Alex Holden
      February 28, 2015, 8:15 pm

      Donec ipsum diam, pretium maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt risus id interdum primis orci cubilla gravida.

      REPLY
    • Linda Gareth@Alex Holden
      March 1, 2015, 8:20 am

      Maecenas dolor, sot donec ipsum diam, pretium gravida nulla maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt.cubilla gravida.

      REPLY
    • Heather Dale@Alex Holden
      March 3, 2015, 10:15 am

      Donec ipsum diam, pretium maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt risus id interdum primis orci cubilla gravida.

      REPLY
  • Debora Hilton
    March 5, 2015, 12:00 pm

    Maecenas dolor, sot donec ipsum diam, pretium gravida nulla maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt.cubilla gravida.

    REPLY

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos