فلم کے دوران اچانک ہی خلائی جہاز کے کمانڈر نے خطرے کا الارم بجا دیا۔ خلائی جہاز سامنے کی سمت سے آنے والے ایک بہت بڑے شہابیے کی زد میں تھا۔
فلم کے دوران اچانک ہی خلائی جہاز کے کمانڈر نے خطرے کا الارم بجا دیا۔ خلائی جہاز سامنے کی سمت سے آنے والے ایک بہت بڑے شہابیے کی زد میں تھا۔ چنانچہ تمام افراد شیشے کی ٹیوبوں کی جانب لپکے۔ ہر گزرتا لمحہ موت و زندگی کے درمیان فاصلہ کم کرتا جارہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اب جہاز کے پرخچے اڑ جانے ہی والے ہیں کہ اچانک شیشے کی ٹیوبوں میں سفید روشنی ہوئی اور تمام لوگ غائب ہوگئے۔ اس کے فوراً بعد ہی شہابیہ جہاز سے ٹکرا گیا اور ہر طرف آگ ہی آگ پھیل گئی، لیکن تمام مسافر ایک دوسرے خلائی جہاز میں کھڑے اس تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ سب لوگ صرف اس مخصوص مشین کی وجہ سے زندہ بچ گئے جو ان کے جسموں کو توانائی میں تبدیل کر کے دوسری مشین کی جانب لے گئی اور پھر سے انسانی روپ فراہم کردیا۔ یہ فلمی منظر مستقبل قریب میں حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے۔ موجودہ دور کے سائنسدان سنجیدگی سے اس قسم کی مشین کی ایجاد میں مصروف ہیں جو پلک جھپکتے میں افراد کی خاصی تعداد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاسکے اور اس مقصد کے لئے خاصے دلچسپ و سیر حاصل تجربات بھی کئے گئے ہیں جو حاضر خدمت ہیں۔
اگر کبھی ایسا ہو کہ رات کا تقریباً نصف حصہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سکون سے گزر گیا ہو، چودہویں رات کی چاندنی نے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں نے ماحول کو خوشگوار بنا رکھا ہو اور شہر کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہے ہوں۔ ایسے ماحول میں آپ شہر کے اختتام پر موجود ایمرجنسی سینٹر کی عمارت میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہوں کہ اچانک خطرے کا الارم بجنے لگتا ہے اور تمام لوگ چوکنا ہو کر اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ عمارت کی مختلف جگہوں پر نصب اسپیکروں سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ بحیرہئ عرب میں سمندری طوفان نے آنکھ کھولی ہے۔ طوفان کے وجود میں آنے کا سبب خشکی یا پھر پانی پر موجود علاقہ کے اچانک درجہ حرارت کا بڑھ جانا ہے جس کی وجہ سے وہ مقام جہاں پر درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اس پر موجود ہوا کا دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے اور اسی دوران درجہ حرارت اور دباؤ میں اضافہ کے سبب وہاں پر موجود پانی کے بخارات تیزی سے اوپر اٹھنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے اس مخصوص علاقہ میں موجود ہوا کا دباؤ مزید زیادہ ہوجاتا ہے اور اس طرح سے دباؤ زیادہ پوٹینشل سے کم پوٹینشل کی جانب منتقل ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں تیز ہوائیں پیدا ہوتی ہیں جو کہ طاقت میں اضافہ کے باعث سائیکلون یا ضد سائیکلون کی شکل بھی اختیار کرلیتی ہیں۔ ہمارے علاقہ میں اس قسم کی ہوائیں مون سون کے موسم سے پہلے یا پھر مون سون کے موسم کے بعد زیادہ چلنا شروع ہوتی ہیں، لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سائیکلون کا خدشہ مون سون سے قبل یا مون سون کے بعد زیادہ ہوتا ہے۔ مون سون موسم کے آغاز پر یہ اعلان سننا کہ سمندری طوفان کی دیوقامت موجیں تیزی سے منوڑے کے ساحل کی جانب بڑھ رہی ہیں اور ماہرین کا یہ اندازہ کہ یہ موجیں اس قدر خوانخوار ہیں کہ ہوسکتا ہے وہ پورے جزیرے کو نگلنے کے بعد کیماڑی کے ساحل سے ٹکرا کر شہر قائد میں داخل ہوجائیں اور اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوا تو اس سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا تصور کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ سن کر سب کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اعلان میں مزید کہا جارہا تھا کہ تمام اسٹیشنوں کو فوری طور پر اس آفت سے مقابلہ کرنے کاحکم دیا جاتا ہے اور جس قدر جلد ممکن ہوسکےکسی بھی طریقہ سے انسانی جانوں کو بچانے کی کوشش کی جائے، اس لئے کہ وقت ان موجوں کی رفتار سے بہت کم ہے جو ہماری جانب بڑھ رہی ہیں۔ اس قسم کے اعلان کے بعد یقینا پورے علاقہ میں خطرے کے سائرن بجنے لگیں گے اور ہنگامی امداد کے اداروں کو حرکت میں لایا جائے گا۔ اس صورت حال میں اصل مسئلہ یہ ہوگا کہ کس طرح لوگوں کی بڑی تعداد کو جزیرے منوڑے سے نکال کر محفوظ مقام پرپہنچایا جائے۔ سمندری طوفان کی وجہ سے کشتیوں کو استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتنے کم وقت میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو اٹھانا بہت مشکل ہے۔ ایسے میں وہ کون سا طریقہ اپنایا جائے کہ سب لوگوں کو سمندر کی بے رحم موجوں کے ہاتھوں میں پہنچنے سے محفوظ رکھا جائے اور یہ طوفان بھی گزرجائے۔ اگر یہ خطرناک حالت موجودہ دور میں رونما ہوجائے تو شاید تمام لوگوں کو نہ بچایا جاسکے، لیکن مستقبل میں اگر اس طرح کی صورتحال پیش آجائے تو اس سے نمٹنے کے لئے ہمیں آج سے سوچنا ہوگا اور اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ ہمیں نقل و حمل کا کوئی ایسا ذریعہ تلاش کرنا ہوگا کہ جس کے ذریعے آبادی کا ایک بڑا حصہ آناً فاناً ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکے تاکہ ان ناگہانی آفات سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکے۔ آپ کو یقینا یاد ہوگا کہ بعض سائنس فکشن فلموں میں انسانوں کو ایک سیارے سے دوسرے سیارے یا خلائی جہازوں میں آنے جانے کے لئے ایک مشین کو دکھایا جاتا تھا جس پر مختلف لوگ کھڑے ہوجاتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تیز روشنی کے ساتھ غائب ہوجاتے تھے اور پھر وہ مطلوبہ جگہ پر دوبارہ اصل حالت میں واپس آجاتے تھے۔ ایسی ہی ایک مشہور فلم “اسٹار ٹریک” ہے۔ اس خلائی اسٹیشن میں خلانورد مستقبل کی ایجادات، اختراعات اور نظریات کو موجودہ دور میں عملی صورت میں پیش کر کے اس کے تمام پہلوؤں پر سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ اس فلم میں پیش کی جانے والی مختلف اشیاء میں سے کچھ نے حقیقت کا روپ اپنالیا ہے۔ ان میں سے ایک شئے لیزر گن اور سوئی کے بغیر انجکشن ہے۔ اسی فلم میں خلاء بازوں کو مختلف سیاروں میں پہنچانے کے لئے انسانوں کو روشنی میں تبدیل کر کے کسی بھی جگہ پر منتقل کرنے کے لئے مشین کا خاصا استعمال دکھایا گیا ہے۔ کیا سائنسی فلموں کی طرح انسانوں کو شعاعوں میں تبدیل کر کے کسی بھی جگہ پہنچایا جاسکتا ہے؟ کیا اب سڑکیں گاڑیو ں کے بوجھ کو اپنے سینے پر محسوس کرنے کے لئے ترستی رہیں گی اور کیا اب بچے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اس اڑنے والی مشین کا انتظار کرتے رہیں گے اور کیا ہم آلودگی سے پاک خالص ہوا کو محسوس کرسکیں گے؟ یہ سوچ کر یقینا ہماری آنکھ کھل جائے گی اس لئے کہ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہوا ہے اور شاید اس صدی میں بھی نہ ہو۔ تو کیا انسانوں کی رشنی کے ذریعے منتقلی صرف قصہ کہانیوں اور فلموں کی حد تک ہے یا قدرت کا عطا کردہ ذہن جو سوچتا ہے اس کو عملی شکل نہیں دے دیتا ہے؟ مادّے کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کو سائنس فکشن رائٹرز نے \”Teleportation\” کا نام دیا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی شئے یا شخص کی کسی ایک جگہ سے غائب ہو کر دوسری جگہ ہوبہو نقل بن سکتی ہے۔ یہ عمل کس طرح ہوگا؟ اس کے بارے میں تفصیل سے کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ کوانٹم نظرئیے (Quantum Theory) کی ٹھوس مساوات میں اس عمل کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس طریقہ میں عام خیال یہ ہے کہ اصل شئے کو اس طریقہ سے اسکین (Scan) کیا جائے کہ اس کی تمام معلومات کو حاصل کرلیا جائے پھر ان معلومات کو نشر کر کے وصولی والے حصے پر اس کی ہوبہو نقل تیار کرلی جائے اور اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ اسی خال مال (Material) سے تیار ہو جو اصل شئے کا ہے۔ لیکن شاید ضروری ہے کہ ایٹم کی وہی ترتیب اور قسم ہو جو کہ اصل کی ہے۔ “ٹیلی پورٹیشن مشین” بالکل فیکس مشین کی طرح ہے، سوائے اس کے کہ یہ سہ رخی کام کرتی ہے۔ یہ مشین اصل شئے کی طرح کاپی بنائے گی اور اسکیننگ کے دوران اصل کو ختم کر دے گی۔ چند سائنس فکشن رائٹرز نے اصل کو محفوظ رکھنے کا خیال پیش کیا ہے، لیکن اس وقت ان کی کہانی میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ جب اصل اور کاپی ایک شکل و صورت کے آپس میں ملتے جلتے ہیں جبکہ زیادہ تر کا خیال ہے کہ وہ اصل کو ختم کردیتے ہیں۔
چند سال قبل ایک بین الاقوامی گروپ کے چھ سائنسدانوں نے زیادہ تر سائنس فکشن رائٹرز کے اس نظرئیے کی تصدیق کی ہے کہ اصولی طور پر ٹیلی پورٹیشن ممکن ہے جبکہ اصل کو ختم کر دیا جائے۔ جبکہ اس دوارن بعض سائنسدان ایسے تجربات کرنے پر غور کر رہے ہیں جس سے خوردبینی اشیاء مثال کے طور پر سنگل ایٹم یا فوٹون کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے ٹیلی پورٹیشن کے عمل کا مظاہرہ کیا جاسکے۔ لیکن سائنسی فلمیں دیکھنے اور کہانیاں پڑھنے والے پڑھ کر شاید مایوس ہوجائیں کہ مستقبل قریب میں کوئی ایسی شکل واضح نہیں ہورہی کہ جس کے ذریعے کسی انسان کو ایک ملک سے دوسرے ملک یا آپ کی کار کا خوبصورت تحفہ مریخ پر پہنچایا جاسکے۔ ٹیلی پورٹیشن پر تجربات کرنے والے سائنسدانوں میں یارک ٹاؤن ہائٹس، نیویارک میں آئی بی ایم ٹی جے، واٹسن ریسرچ سینٹر کے طبیعیات داں چارلس ایچ بینیٹ (Benett) کا کہنا ہے کہ اس نظام میں ہم مسافر کے ایٹموں کے بارے میں معلومات کو منتقل کرتے ہیں۔ منزل پر پہنچنے پر ایٹم کی ان معلومات کو استعمال کرتے ہوئے مقامی طور پر دستیاب اشیاء کی مدد سے مسافر کی ہوبہو کاپی تیار کرتے ہیں۔ ایٹم ایک ایسا لفظ ہے کہ جو سائنس پڑھنے اور نہ پڑھنے والوں کے لئے نیا نہیں ہے۔ مادّے کی چاروں حالتیں ٹھوس، مائع، گیس اور پلازمہ ایٹم ہی سے بنی ہیں۔ محققین نے اس بات کو پہلے ہی ثابت کردیا ہے کہ فوٹون یا روشنی کے پیکٹ کے بارے میں مقداری معلومات کو اس طرح سے منتقل کرنا ممکن ہے۔ آسٹریلیا اور اٹلی کے سائنسدانوں کی ٹیمیں جنہوں نے اس پر کام کیا ہے، اب ایسے تجربات کو ڈیزائن کرنے میں مصروف ہیں جس کے ذریعے الیکٹرون کو ٹیلی پورٹ (Teleport) کیا جاسکے۔ الیکٹرون جیسا کہ آپ جانتے ہیں ایک ہلکا پھلکا منفی چارج والا ذرہ ہے جو ایٹم کے مرکزے (نیو کلیئس) کے گرد چکر لگاتا ہے اور یہی ذرہ ہر اس چیز کا ذمہ دار ہے جو ہمارے اردگرد نظر آتی ہیں۔ الیکٹرون کئی طرح کے کام کرتا ہے۔ وہ ایٹموں کو آپس میں ملا کر سالمات (Molecules) بناتا ہے۔ الیکٹرون کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ وہ گھومتے ہیں اور ان کے گھومنے کی سمت کا تعن مقناطیسی میدان سے ہے۔ کبھی وہ گھڑی کے رخ پر گھومتے ہیں تو کبھی مخالف سمت میں۔ طبیعیات داں الیکٹرون کے گھومنے کو اوپر اور نیچے سے تعبیر کرتے ہیں۔ کچھ خالص حالتوں میں جب الیکٹرون اس مرحلہ پر پیدا ہوتے ہیں وہ گڈمڈ یا پیچیدہ حالت (Entangled State) میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ اگرچہ طبیعی طور پر علیحدہ ہوچکے ہوتے ہیں، لیکن ان میں آپس میں تعلق باقی رہتا ہے۔ ایک لمحہ کے لئے فرض کریں کہ آپ اپنی جیب سے دو سکے نکالتے ہیں اور ایک سکہ اپنے دوست کو دیتے ہیں جو مثال کے طور پر ہانگ کانگ کے لئے روانہ ہوجاتا ہے۔ ہانگ کانگ جو کہ اب جمہوریہ چین کی عمل داری میں ہے۔ آپ کا دوست وہاں پہنچ کر آپ کو فون کرتا ہے کہ اس دوران دونوں دوست اپنے اپنے سکوں کو بیک وقت اچھالتے ہیں۔ اب تصور کریں کہ کسی وجہ سے ہر بار آپ کے سکے کا سر (Head) اوپر ہی رہتا ہے اور آپ کے دوست کا نیچے کی جانب اور ہر بار آپ کے سکے کی دم یا پشت (Tail) اوپر اور اس کے سکے کی نیچے کی جانب رہتی ہے۔ ایسا ہونا ناممکن ہے اور آپ کا خیال درست ہے۔ بالکل اسی طرح کا عمل تمام ایٹمی میدانوں میں بھی ہوتا ہے۔ اب سکوں کی جگہ گڈمڈ یا الجھے ہوئے (Entangled) الیکٹرون کو تصور کرلیں۔ مقداری نظریہ کے مطابق اگر ایک گڈمڈ الیکٹرون اوپر کی جانب گھومے گا تو دوسرا نیچے کی جانب، اگرچہ الیکٹرون کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہو۔
سپر حالتیں
لیکن ٹھیرئیے جناب! کچھ عجیب سے واقعات رونما ہوں گے جب تک حقیقی سکہ زمین پر نہیں گرتا ہے۔اس بات کا قوی امکانات ہیں کہ دونوں سکوں کے سر (Head) اور پشت (Tail) ایک ہی رخ پر رہیں۔ مقداری نظریہ کے قوانین کے مطابق گڈمڈ یا الجھی حالت میں دونوں الیکٹرون بیک وقت اوپر یا نیچے کی جانب گھومتے ہیں۔ بینیٹ کے مطابق کسی ذرہ میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ سپر پوزیشن میں موجود رہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حقیقی ٹیلی پورٹر (Tele-Porter) بنایا جاسکتا ہے۔ ٹیلی پورٹر کی بنیاد پر جائیں تو وہ کچھ اس طرح سے کام کرے گا کہ کسی بھی شئے کے ایک ایٹم کو اسکین کرے گا کہ اس میں ایٹم کو توڑ کر ذروں کے گڈمڈ جوڑوں کو تخلیق کرے گا۔ گڈمڈ جوڑوں کو کھینچا جاتا ہے تاکہ نشریاتی اور وصولی والی جگہوں کے درمیان سپر پوزیشن بڑھ جائے۔ وصولیاتی والے حصہ پر سپر پوزشین میں موجود گڈمڈ ذروں کے متعلق معلومات کی مدد سے اصل مقداری حالت کی کاپی تیار کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ گویا ایک نئے شخص کی تخلیق ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی شئے کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہ کرسکے جس سے درست کاپی تیار کی جائے تو گویا کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس شئے کی ہوبہو کاپی تیار کرنے میں ناکام رہا، لیکن ان چھ سائنسدانوں نے اس مسئلہ کا حل تلاش کرلیا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے آئن اسٹائن، پوڈولسکی، روزن (Einstein-Podolsky-Rosen) نظرئیے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ مختصر طور پر یہ کہ انہوں نے ایک شئے A سے معلومات کا کچھ حصہ اسکین کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا جسے ٹیلی پورٹ کرنا مقصود ہے۔ جو حصہ اسکین نہیں کیا جائے گا اس کی معلومات آئن اسٹائن، پوڈولسکی، روزن کے ذریعے جسم سی (Object C) سے گزاری جائیں گی جس کا A سے کسی قسم کا بھی تعلق نہیں ہوگا، لیکن جب معلومات C سے حاصل کرنے کے بعد اسے A کی پہلے والی حالت میں لایا جائے گا۔ A چونکہ اسکیننگ کے بعد اپنی اصل حالت میں نہیں رہے گا، لہٰذا اس عمل سے کسی شئے کے ہوبہو نقل کی بجائے ٹیلی پورٹیشن حاصل ہوگا جیسا کہ شکل سے واضح ہے کہ A سے C کے بغیر اسکین کی ہوئی معلومات درمیانی \”Object B\” کے ذریعے پہنچائی جاتی ہیں یعنی B پہلے C سے تعلق قائم کرتا ہے پھر A سے۔ کیا یہ کہنا درست ہے کہ پہلے C پھر A سے۔ یقینا اگر کوئی معلومات A سے C کو پہنچتی ہیں تو ڈلیوری گاڑی پہلے A کے پاس جائے گی اور پھر C کے پاس نہ کہ الٹ۔ ایک اور شکل میں روایتی فیکس کی نشریات کو کوانٹم ٹیلی پورٹیشن میں دکھایا گیا ہے۔ فیکس کی روایتی نشریات میں اصل کی اسکیننگ کی جاتی ہے اور اس میں سے جزوی (Partial) معلومات کو حاصل کیا جاتا ہے، لیکن اسکیننگ کے بعد اصل باقی رہتا ہے۔ اسکین کی گئی معلومات وصولیاتی اسٹیشن کو مہیا کردی جاتی ہیں جہاں اسے کاغذ وغیرہ پر دوبارہ منتقل کر کے اصل کی طرح کاپی حاصل کی جاتی ہے۔
کوانٹم ٹیلی پورٹیشن میں دو اجسام (Objects) B اور C کے درمیان تعلق پیدا کیا جاتا ہے اور پھر اسے علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ جسم B کو نشریاتی اسٹیشن پر اور C کو وصولیاتی اسٹیشن کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ نشریاتی اسٹیشن پر جسم B کو اصل جسم Aکے ساتھ اسکین کیا جاتا ہے جسے ٹیلی پورٹ کرنا ممکن ہے۔ اسکین شدہ معلومات کو وصولیاتی اسٹیشن کو مہیا کیا جاتا ہے جہاں مختلف طریقوں کو اختیار کر کے جسم C کو Aکی ہوبہو نقل بنایا جاتا ہے۔
ارے بھئی یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔ دیکھئے اس طرح کرنے سے نقصان آپ ہی کو ہوگا، ہمیں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ میری بات مانیں، ابھی سے آپ ہوائی جہاز کے ٹکٹ کو منسوخ نہ کرائیں، ابھی تو اس مرحلہ پر پہنچنے میں کافی وقت لگے گا۔ “میرے خیال میں یہ بات واضح ہے کہ زیادہ اشیاء یہاں تک کہ بیکٹیریا کو ٹیلی پورٹ کرنے کی بھی ٹیکنالوجی کا حصول ابھی بہت دور کی بات ہے۔” یہ بات آئی بی ایم کے طبیعیات داں چارلس ایچ بینیٹ نے کہی۔ وہ اور ان کے ساتھیوں نے 1993ء میں کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کی تجویز پیش کی تھی۔ اگر کبھی ایسا ممکن بھی بھی ہوا تو اس پر ہونے والے اخراجات اس قدر زیادہ ہوں گے کہ انسان کو روایتی ذرائع سے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنا ہی سستا خیال کیا جائے گا۔ یہ بات گیمبلر اوہائیو (Gambler-Ohio) کے کینین (Kenyon) کالج کے بنجمن شماچر (Schumacher) نے کہی۔ ابھی فی الحال آسٹریا کی یونیورسٹی آف انسبرک (Insbruck) اور یونیورسٹی آف روم اپنے اگلے مرحلہ میں الیکٹرون کو ٹیلی پورٹ کرنے کا تحربہ کریں گی۔ اس کے بعد ایک مکمل ایٹم اور پھر سالمہ یعنی مالیکیول کی باری ہوگی۔ آسٹریا کی ٹیم کے اینٹون زیلنگر (Anton Zellinger) کا خیال ہے کہ ایک دہائی کے اندر چھوٹے سے وائرس کو ٹیلی پورٹ کرنا ممکن ہوجائے گا۔ اب ذرا سوچئے کہ جب جینیاتی مادے کے چھوٹے سے پیکٹ کو ٹیلی پورٹ کرنا ممکن ہوجائے گا تو پھر انسانی جسم کی بلیو پرنٹ لئے ہوئے جینوم (Genome) کیوں منتقل نہیں کئے جاسکیں گے؟
اس مرحلہ پر اچانک ذہن میں یہ خیال آیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے معراج کے واقعہ میں ٹیلی پورٹیشن کے حوالہ سے ہمارے لئے کوئی نشانی تو چھپا کر نہیں رکھی ہے۔

















2 Comments
Linda Gareth
March 6, 2015, 2:51 pmDonec ipsum diam, pretium maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt risus id interdum primis orci cubilla gravida.
REPLYAlex Holden
March 6, 2015, 2:52 pmMaecenas dolor, sot donec ipsum diam, pretium gravida nulla maecenas mollis dapibus risus. Nullam tindun pulvinar at interdum eget, suscipit eget felis. Pellentesque est faucibus tincidunt.cubilla gravida.
REPLY