ٹیکنالوجی روز بروز آسان اور تکنیکی صلاحیتوں سے بھرپور ہوتی جارہی ہے۔
پہلے لوگ اپنے ضروری کاغذات الماری اور درازوں میں سنبھال کر رکھا کرتے تھے۔
ٹیکنالوجی روز بروز آسان اور تکنیکی صلاحیتوں سے بھرپور ہوتی جارہی ہے۔
پہلے لوگ اپنے ضروری کاغذات الماری اور درازوں میں سنبھال کر رکھا کرتے تھے۔ پھر انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کا دور آیا اور ضروری کاغذات کو کمپیوٹر میں محفوظ کیا جانے لگا اور اب نئی ٹیکنالوجی یعنی کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ذریعے ضروری کاغذات و دستاویز اور کمپیوٹر ایپلی کیشنز کو لامحدود پیمانے پر آن لائن محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ جدید دور کی ٹیکنالوجی ہے جو انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے لامحدود ڈیٹا اور ایپلی کیشنز کو محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم ای میل کرتے ہیں اور میل کو محفوظ کرتے ہیں، میل کہاں محفوظ ہوتی ہے؟ ویب سائٹس کا ڈیٹا کہاں محفوظ ہوتا ہے؟ یہ سب کلاؤڈ پر ہورہا ہے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی وجہ سے لوکل نیٹ ورک سسٹم کا رواج ختم ہورہا ہے، پہلے ویب سائٹ کے ڈیٹا کو لوکل نیٹ ورک پر محفوظ کیا جاتا تھا جوکہ محدود پیمانے پر تھا مگر اب ڈیٹا کلاؤڈ پر اسٹور کیا جاتا ہے اور اس طرح جگہ کی بھی کوئی قید نہیں۔ آج کل بنائے جانے والے گوگل اور ورڈ پریس کے بلاگز اسی ٹیکنالوجی سے بنائے جاتے ہیں۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے اخلاق سے محدود صارفین کو لامحدود پیمانے پر ایپلی کیشنز اور ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت میسر ہورہی ہے۔
ہاٹ میل، جی میل، فیس بک، اورکٹ، ویبکس، اسکائپ، یاہو، یوٹیوب، ویمیو اور ایم ایس این کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی مثالیں ہیں۔ ان تمام پروگرامرز کا ڈیٹا اور ایپلی کیشنز کلاؤڈ پر محفوظ ہے۔ پاکستان سے فیس بک صارفین کی تعداد ڈیڑھ ملین سے زائد جبکہ یاہو صارفین کی تعداد تقریباً دو ملین کے قریب ہے۔ سروسز جیسے گوگل میپ ڈوٹ کام، لاہور ریل سسٹیٹ ڈوٹ کوم اور پاک ویلز ڈوٹ کام کی ایپلی کیشنز اور ڈیٹا کو آہستہ آہستہ تبدیل کردیا گیا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا آن لائن تعلیم فراہم کرنے والا ادارہ ورچوئل یونیورسٹی طالبعلموں کو تعلیم فراہم کرنے کے لئے یوٹیوب کو پلیٹ فورم کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یونیورسٹی کے تمام لیکچرز یوٹیوب پر شائع کردیئے جاتے ہیں۔ طالبعلم جی میل اور گوگل ٹاک کو رابطوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر ڈیٹا منتقل کرنے کی وجہ سے کاروباری اداروں کے اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ نے ڈیٹا کو کمپیوٹر اور لوکل نیٹ ورک پر رکھنے کا رواج ختم کردیا ہے۔ اب گانے، معلومات، فلمیں اور ویڈیو گیمز کو کمپیوٹر پر محفوظ کرنا لازمی نہیں بلکہ یہ سب کچھ کلاؤڈ پر منتقل کیا جاسکتا ہے اور اس سے رفتار میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دنیا بھر میں متعدد ادارے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے فائدہ اٹھارہے ہیں، اس نئی ٹیکنالوجی نے ویب اسپیس کا مسئلہ بھی ختم کردیا ہے۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ کبھی کبھی مشکلات کا باعث بھی بنتا ہے۔ حال ہی میں ڈیٹا ضائع ہوجانے کی وجہ سے گوگل کے لاکھوں استعمال کنندگان کے ایڈریس بند ہوگئے۔ انٹرنیٹ سے رابطہ نہ ہونے کی صورت میں کلاؤڈ کام نہیں کرتا جو کہ اس کا سب سے اہم مسئلہ ہے، لیکن آج کل انٹرنیٹ ہر جگہ موجود ہے، اس لئے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ دنیا میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے فروغ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ ٹیکنالوجی اپنے عروج پر پہنچنے والی ہے۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *